مادری زبان میں تعلیم دی جاتی تو ملک پچھڑتا نہیں: امت شاہ


وارانسی، 13 نومبر: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آزادی کے بعد ملک پر پسماندگی کے داغ کے پیچھے سب سے بڑی وجہ مادری زبان میں تعلیم نہ دینے کو اہم وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ،’ہمارا ملک پسماندہ ہو گیا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی تعلیم اپنی مادری زبان میں نہیں کی‘۔
مسٹر شاہ نے ہفتے کو یہاں راج بھاشا سمیلن ( سرکاری زبان کی کانفرنس) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد ملک کو سوراج مل گیا اب اسے ’سُراج‘ میں تبدیل کرنا ہے، لیکن ’سودیشی‘ اور ’سو بھاشا‘ پیچھے چھوٹ گئے ہیں ۔ انہوں نے اپیل کی کہ آزادی کے امرت مہوتسو میں ہم پیچھے چھوٹے ان مقاصد کو پورا کریں۔
مسٹر شاہ نے ملک کو آزادی ملنے کے بعد بھی مادری زبان سمیت دیگر مقامی زبانوں کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کیے جانے کو تاریخی بھول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت چلا گیا ہے‘ جب اپنی مادری زبان جاننے والوں کو شرم کا احساس کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک اپنی زبانوں کو بھلا دیتا ہے‘ وہ ملک اپنی بنیادی فکر بھی کھو دیتا ہے لہٰذا وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی اسٹیج پر اپنی بات اپنی مادری زبان میں ہی رکھی۔
دو روزہ وارانسی قیام پر آئے مسٹر شاہ نے یہاں واقع ’دین دیال ہست کلا سنکول‘ میں ’اکھل بھارتیہ راج بھاشا سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت بننے کے بعد ’راج بھاشا سمیلن‘ کو دہلی سے باہر لے جانے کا جب فیصلہ کیا تو یہ کانفرنس اپنے پہلے پڑاؤ کے طور پر زبانوں کے ’گو مُکھ‘ کہے جانے والے شہروارانسی میں پہنچا۔