ایم پی محکمہ پولیس کی انوکھی مہم:


حادثے میں زخمی ہونے والے کو اسپتال لے جانے پر دیا جائےگا 5 ہزار روپے انعام
اندور12نومبر(نیا نظریہ بیورو)کئی بار راہگیر سڑک حادثات میں زخمی ہونے والے شخص کو اسپتال لے جانے سے کتراتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے کہ زخمی شخص وقت پر علاج نہ ہونے کی وجہ سے مر جاتا ہے۔ ساتھ ہی عام آدمی کا خیال ہے کہ اگر اس شخص کو اسپتال لے جایا جائے تو پولیس کو بیانات دینے اور عدالت کے چکر لگانے پڑیں گے۔جس کی وجہ سے وہ زخمیوں کی مدد نہیں کرتا۔ صحیح وقت پر مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے زخمی شخص کی موت ہو جاتی ہے۔
مدھیہ پردیش پولیس نے ایک انوکھی مہم شروع کی ہے۔ جس کی وجہ سے زخمی کو راہگیر صحیح وقت پر اسپتال لے جاتا ہے۔ زخمیوں کو اسپتال لے جانے والے کو 5000 روپے انعام دیا جائے گا۔ متعلقہ شخص کو اپنا نام صرف اسپتال کے رجسٹر میں درج کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اسے پولیس کی طرف سے انعام دیا جائے گا۔ ساتھ ہی اسپتال پہنچنے والے شخص کو صرف اسپتال کے رجسٹر میں اپنا نام درج کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اسے پولیس کی طرف سے انعام دیا جائے گا۔
ایڈیشنل ایس پی انل پاٹیدار نے کہا کہ سڑک حادثہ کے بعد عام طور پر راہگیر زخمیوں کو اسپتال لے جانے سے کتراتے ہیں۔ راہگیر کے ذہن میں صرف ایک سوال رہتا ہے کہ زخمی کو ہسپتال لے جایا جائے تو پولیس اور عدالت کے چکر لگانے پڑیں گے۔ اس وجہ سے وہ زخمیوں کی مدد نہیں کرتا۔ اسی دوران علاج نہ ہونے کی وجہ سے زخمی دم توڑ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ریاست میں مدھیہ پردیش پولیس کی جانب سے اس انوکھی مہم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وہیں ٹریفک انسپکٹر دلیپ پریہار نے کہا کہ اندور میں سال 2021 میں سڑک حادثات میں اب تک 350 اموات ہو چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان اعداد و شمار میں ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی وجہ سے کئی حادثات بھی ہوئے ہیں، لیکن عام طور پر دیکھے گئے ہیں۔ اگر سڑک حادثہ میں زخمیوں کو بروقت اسپتال پہنچایا جائے۔ اسے ابتدائی طبی امداد ملنی چاہیے۔ اموات کے یہ اعداد و شمار نیچے آ سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی محکمہ پولیس اب چوراہوں پر واقع اسکولوں میں مختلف عوامی پروگرام منعقد کرکے عوام کو اس مہم سے آگاہ کرے گا۔ عوام کے ذہن میں سب سے بڑا بھائی یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ زخمی کو اسپتال لے کر جائے۔ وہ اسپتال اور پولیس کے بیانات میں الجھ جاتا ہے۔ اس غلط فہمی پر پولیس اس مہم کے ذریعے انہیں معلومات بھی فراہم کرے گی۔