کھجوراہو اِنٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی تیاریاں شروع:


امرت مہوتسو کے طور پر منایا جائےگاآزادی کے 75 سالوں کاجشن
کھجوراہو12نومبر(نیا نظریہ بیورو)حال ہی میں7ویں کھجوراہو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 2021 کا پوسٹربندیل کھنڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے نائب صدر اور تقریب کے منتظم راجہ بندیلا نے جاری کیاتھا۔اس بار 5 سے 11 دسمبر 2021 کے درمیان کِف ٹاپرا ٹاکیزکے ساتھ اپنے روایتی انداز میں فلموں کی نمائش کرے گا۔اس کے ساتھ ہی لوگوں کو مزاحی دنیا کی کئی عظیم شخصیات سے بھی واقفیت کا موقع ملے گا۔اپنی قیمتی کاریگری کے لیے عالمی شہرت یافتہ کھجوراہو اب اپنے منفرد بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔جہاں بانس کی چھڑیوں کے ساتھ خصوصی طور پر تیار کردہ ٹاپرا ٹاکیز میں فلموں کی نمائش دیکھنے کو ملتی ہے۔مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے سیاحتی مراکز میں سے ایک کھجوراہو میںپچھلے 6 سالوں سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی فلم فیسٹیول (کِف) کے ساتویں ایڈیشن کو جلددیکھنے کا موقع ملے گا۔جبکہ گزشتہ سال دنیا بھر میں فلمی فیسٹیول ورچوئلی منعقد کیے گئے تھے، اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کف کو ورچوئل اور روایتی دونوں طرح سے منعقد کیا گیاتھا۔
بندیل کھنڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے نائب صدر اور تقریب کے منتظم راجہ بندیلا نے سوشل میڈیا ہینڈل پر کہا کہ محکمہ ثقافت اور سیاحت کے تعاون سے منعقد ہونے والے فیسٹیول کو اس بار آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر امرت مہوتسو کے طور پر منایا گیا ہے۔5 سے 11 دسمبر تک منعقد ہونے والی اس تقریب کو آزادی کے پروانوںکے نام کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کف کا انعقاد سینما کے عالمی ورثے کو بچانے کی ایک کوشش ہے۔پہلے سنیما ہال نہیں تھے، تب لوگ ٹاپرا ٹاکیز میں فلموں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔گاو ¿ں میں منعقد ہونے والے کھجوراہو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کو ولیج فیسٹیول بھی کہا جاتا ہے۔مقامی سطح پر فیسٹیول کی فلمیں پہلے کی طرح ٹاپرا ٹاکیز میں دکھائی جائیں گی۔بانس بلی کو گاڑ کر ترپال سے بنائے گئے خیموں کو ٹاپرا ٹاکیز کہا جاتا ہے۔کف کی فلمیں شروع سے ہی سینما گھروں کی بجائے ٹاپرا ٹاکیز میں دکھائی جا رہی ہیں۔جس کی وجہ سے یہ ایک منفرد طرز کا فیسٹیول بن گیا ہے۔
بتادیں کہ کھجوراہو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول مقامی زبان، ثقافت، ماحول اور سیاحت کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد بندیل کھنڈ کے باصلاحیت فلمی فنکاروں کو بین الاقوامی سطح پر پہچان دلانا ہے۔میلے میں بڑی تعداد میں مقامی زبان کی فلمیں بھی دکھائی جاتی ہیں۔جس کی سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے بھی تعریف کی ہے۔