ہائی کورٹ پہنچا حمیدیہ اسپتال معاملہ:


بچوں کی ہلاکت پر سٹیزن کنزیومر فورم نے دی فوری سماعت کےلئے درخواست
بھوپال12نومبر(نیا نظریہ بیورو)بھوپال کے حمیدیہ کیمپس میں واقع کملا نہرو اسپتال کے ایس این سی یو وارڈ میں آگ لگنے سے 14 بچوں کی موت کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سٹیزن کنزیومر فورم نے اس حوالے سے درخواست دائر کرتے ہوئے فوری سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں ماضی میں ہونے والے حادثات کے باوجود حفاظت کے حوالے سے کی جانے والی لاپرواہی کو ایشو بنایا گیا ہے۔ منچ کے ڈاکٹر پی جی نجپانڈے کے مطابق بچوں کی موت سے جڑا معاملہ حساس اور عوامی مفاد کا ہے۔ 2014 میں ستنا کے سرکاری اسپتال میں بچوں کے وارڈ میں بھی ایسی ہی آگ لگی تھی۔ اس میں 14 بچوں کی موت ہو گئی۔
قبل ازیں دائر درخواست کے بعد ہائی کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ آتشزدگی جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسپتال نہیں تھے۔ حمیدیہ اسپتال میں بھی ایسی ہی لاپرواہی سامنے آرہی ہے۔ سابقہ کیس ابھی زیر التوا ہے۔
حمیدیہ کا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ 7 سال گزرنے کے بعد بھی ریاست کے اسپتالوں کی حالت نہیں بدلی ہے۔ حفاظتی انتظامات کا مشاہدہ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ فورم نے عدالت سے اس معاملے کی فوری سماعت کرنے کی استدعا کی ہے۔
بھوپال کے حمیدیہ اسپتال میں 8 نومبر کو آگ لگ گئی تھی۔ آگ وینٹی لیٹر پھٹنے سے لگی تھی۔ حادثے میں اب تک 14 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومتی ریکارڈ کے مطابق آگ لگنے سے 5 اموات ہوئیں۔ حادثے کے بعد 57 انجینئروں کو 30 نومبر تک مدھیہ پردیش کے تمام اسپتالوں کا فائر آڈٹ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔