37سال 37سوال: گیس متاثرین کو 37سالوں کے بعد بھی نہیںملا انصاف:عارف مسعود


بھوپال12نومبر(نیا نظریہ بیورو)سانحہ گیس کی 37ویںبرسی پر گیس متاثرین تنظیموں کے ذریعہ حکومت سے 37سوال دھرنے پر پوچھے جارہے ہیں۔آج ایم اےل اے عارف مسعود نے گیس متاثرین تنظیموں کے ڈی آئی جی بنگلے پر دئےے جارہے دھرنے میںپہنچ کر ان کے مطالبات کی حمایت کی۔
عارف مسعود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 37سال گذرنے جانے کے بعد بھی گیس متاثرین روزگار،علاج اور معاوضے سے محروم ہےں۔37 سال کے بعد بھی متاثرین پریشان ہےں۔انہیں صحیح علاج اور معاوضے کی انتہائی ضرورت ہے۔ہر ایک گیس متاثر کو کم از کم 8لاکھ روپئے معاوضہ دیا جائے۔گیس متاثرین بیوہ پنشن سے محروم خواتین کو ایک ہزار روپئے ہرماہ پنشن دی جائے۔
انہوںنے مزید کہا کہ ریاستی حکومت سے لیز کی شرطوں کے مطابق ڈو کیمیکل کو بھوپال کی مٹی ،پانی کی صفائی کرنے کے لئے مجبور کیا جائے۔یونین کاربائڈ کارخانے کے پیچھے زہریلے تالاب میں سنگاڑے اُگانے اور مچھلی پالن کا کام چل رہا ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔پانی میں زہریلی گیس کا اثر ہے اور کام پر پابندی لگائی جائے۔
گیس متاثرین تنظیموں کی اور سے 37 سال 37سوال کے دھرنے کو آج 18دن ہوچکے ہیں۔دھرنے میں خاص طور پر بھوپال گیس متاثر سٹیشنری کارکنان سنگھ کی رشیدہ بی،بھوپال گروپ فار انفارمیشن اینڈ ایکشن کی رچنا ڈینگرا،بھوپال گیس متاثر خواتین و مرد سنگھرش مورچہ نواب خان،شہزادی بھی،بچے نوشین خان وغیرہ موجود تھے۔