ریاست میں کانگریس رہنما کی کتاب پر لگائی جائےگی پابندی:ڈاکٹر نروتم مشرا


کانگریس رہنماسلمان خورشید کی کتاب ‘سن رائز اُو ±وَر ایودھیا: نیشن ہڈ اِن اُو ±وَر ٹائمز’تلخی میں اضافہ کریگی
بھوپال12نومبر(نیا نظریہ بیورو)وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے کہا ہے کہ سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید کی کتاب ‘سن رائز اُو ±وَر ایودھیا: نیشن ہڈ اِن اُو ±وَر ٹائمز’ پر مدھیہ پردیش میں پابندی لگائی جائے گی۔اس حوالے سے قانونی ماہرین سے قانونی رائے لی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ کانگریس لیڈر صرف ہندوتوا کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کتاب ‘سن رائز اُو ±وَر ایودھیا’ ملک میں دشمنی بڑھانے کا کام کرے گی۔کانگریس کی ذہنیت ایسے متنازعہ موضوعات کو آگے بڑھانے کی رہی ہے، جو ملک میں تلخی بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ وہیں بھوپال کی ایم پی پرگیہ ٹھاکر نے کانگریس کو منحرف لوگوں کی پارٹی قرار دیتے ہوئے اس پر حملہ کیا ہے۔
بتادیں کہ خورشید کی اس کتاب کے چیپٹر ‘دی سیفرن اِسکائی’ میں اس معاملے پر غصہ کیا جا رہا ہے جس میں ہندوتوا کا موازنہ دہشت گرد تنظیموں آئی ایس آئی ایس اور بوکو حرم سے کیا گیا ہے۔ بی جے پی اس متنازعہ تبصرہ پر حملہ آور ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سلمان خورشید اور دگ وجئے سنگھ جیسے لوگ تسکین کی سیاست کے پروردہ ہیں۔ وہ ملک کے اندر ٹوٹ پھوٹ اور تنہائی کے احساس کو پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ کانگریس اور گاندھی خاندان چاہتے ہیں کہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے، ذات پات میں تقسیم ہو، جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی متحد ہندوستان کی بات کرتے ہیں۔
بھوپال کی ایم پی پرگیہ ٹھاکر نے کہا کہ سلمان خورشید بدعتی ہیں۔خورشید کی اہلیہ جیل میں ہیں۔ یہ لوگ معذوروں کے مصنوعی اعضاءکا استحصال کرتے ہیں۔ان کی دولت اور سہولیات کا استحصال کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہندوستان کی روح اور روحانیت پر تنقید کرتے ہیں۔ سلمان خورشید نے جن تنظیموں سے ہندوتوا کو جوڑا ہے، اگر وہ پاکستان میں ہوتیں تو انہیں معلوم ہوتا کہ آئی ایس آئی کیا ہے۔ آئی ایس آئی نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا، وہ واپس بھی نہیں آسکتے۔ ہندوتوا کی خدمت ہے، اس لیے وہ یہاں محفوظ ہیں۔
پرگیہ نے کہا کہ کانگریس لیڈر راشد علوی نے جو کچھ کہا ہے، وہ یقینی طور پر مایوس لوگوں کی پارٹی بن گئی ہے۔ ہندوتوا، ہندو، بھگوا، سناتن دھرم، یہ سب ان کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ وہ انہیں سمجھ نہیں سکتا۔ ہم انہیں قانون کے تحت سزا دینے کی پوری کوشش کریں گے۔
خورشید کی کتاب کی ریلیز کے دوران ڈگ وجے سنگھ نے کہا تھا – میں سناتن دھرم کا پیروکار ہوں… ہندوتوا کا ہندوازم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا سناتنی روایات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سنتانی روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا- ونائک دامودر ساورکر جی مذہبی شخص نہیں تھے۔ یہاں تک کہہ دیا تھا کہ گائے کو ماں کیوں مانتے ہو؟ اس نے ہندو کی تعریف کے لیے لفظ ہندوتوا لایا۔ اس سے لوگ الجھ گئے۔ آر ایس ایس افواہیں پھیلانے میں ماہر ہے۔ اب ان کے پاس سوشل میڈیا کی صورت میں ایک بڑا ہتھیار آگیا ہے۔
انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بی جے پی پر بھی حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہندوو ¿ں کو خطرہ نہیں ہے لیکن ‘تقسیم کرو اور راج کرو’ کی ذہنیت خطرے میں ہے۔ اس ملک کی تاریخ میں ہندوستان میں اسلام کی آمد سے پہلے ہی مذہبی بنیادوں پر مندروں کو تباہ کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب بادشاہ کسی دوسرے بادشاہ کا علاقہ فتح کرتا تھا تو اس کے مذہب کو اس بادشاہ کے مذہب پر ترجیح دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اب کہا جاتا ہے کہ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی مندروں کی تباہی شروع ہو گئی۔
کتاب میں خورشید نے لکھا ہے کہ موجودہ دور میں ہندوتوا کی سیاسی شکل سنتوں اور سنتوں کے قدیم ہندو مذہب کو ایک طرف رکھ رہی ہے۔ یہ داعش اور بوکو حرام جیسی جہادی اسلامی تنظیموں کی طرح ہے۔ اس سوال کے جواب میں سلمان خورشید کا کہنا ہے کہ پوری کتاب پڑھیں، چند لائنیں نہیں جو سوال اٹھائیں۔ سلمان خورشید نے کتاب کے ذریعے ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام سے لے کر زمین کے تنازع کے فیصلے تک کے واقعے پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔