کانگریس ملک کو خوشامد سیاست کی طرف لے جا رہی ہے: وی ایچ پی


نئی دہلی، 12 نومبر: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور کانگریس لیڈر راشد علوی کے ہندوتو پر دیئے گئے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے کہا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس ملک کو خوشامد کی کرپٹ سیاست کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری ڈاکٹر سریندر جین نے جمعہ کو یو این آئی کو بتایا کہ مہاتما گاندھی کی کانگریس آج بھٹک گئی ہے اور کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس ہندو مخالف اور بھگوان رام مخالف بن گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کانگریس لیڈر ہندو مذہب کی توہین کر رہے ہیں اور ہندو مذہب کا دہشت گرد تنظیموں ‘آئی ایس آئی ایس’ اور ‘بوکو حرام’ سے موازنہ کر کے ہندو سماج کو چیلنج کر رہے ہیں۔
وی ایچ پی لیڈر نے الزام لگایا کہ کانگریس لیڈر ہندوازم اور ہندوتو کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی سرزمین کی بھی توہین کررہے ہیں جس کی روح ہندوازم اور بھگوان رام ہے۔
ڈاکٹر جین نے بتایا کہ کانگریس تباہی کے راستے پر چل رہی ہے۔ جیسے جیسے مندر کی تعمیر کا کام آگے بڑھ رہا ہے، کانگریس کا غصہ پاگل پن میں بدل رہا ہے۔ ہندوتو پر مسٹر گاندھی کے ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی نے صرف انتخابی فائدے کے لئے جینو پہنا تھا اور اب وہ اور دیگر کانگریسی لیڈر ہندو، ہندوتو اور بھگوان شری رام کے خلاف توہین آمیز بیانات دے رہے ہیں لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ نہ اس وقت فائدہ ہوا اور نہ ہی اب فائدہ ہو گا۔
ڈاکٹر جین نے کہا کہ مسٹر گاندھی کے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے اور کانگریس کی حالت نہ مایا ملی نہ رام جیسی ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے ہندو فلسفہ ہندوستان کی زندگی کے مرکز میں آیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی عزت نفس میں اضافہ ہوا ہے، فخر میں اضافہ ہوا ہے اور پوری دنیا میں ہندوستان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن جن لوگوں کو راست نہیں آرہا ہے وہ ہندو اور ہندوتو کے سلسلے میں اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔