سپریم کورٹ کی وارننگ پر 11خواتین آفیسرز کو فوج میں مستقل کمیشن


نئی دہلی، 12نومبر: سپریم کورٹ میں جمعہ کو فوج کی 11مزید خواتین افسران کی تاریخی جیت ہوئی ہے۔
عدالت عظمی کی توہین کی کارروائی کی وارننگ کے بعد فوج ان خواتین آفیسرز کو مستقل کمیشن یعنی ریٹائرمنٹ کی عمر تک ملازمت کا موقع دینے کے لئے تیار ہوگئی۔
اس سے پہلے فوج نے 39خواتین کو عدالت کے حکم پر مستقل کمیشن کا موقع دیا تھا۔
جج ڈی وائی چندرچوڑ اور جج اے ایس بوپنا پر مشتمل بنچ کے سامنے توہین کی عرضی پر سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سنجے جین نے یقین دلایا کہ فوج 11خواتین کو مستقل کمیشن کے لئے دس دن کے اندر ضروری آرڈر جاری کرے گی۔
جج چندر چوڑ نے سماعت کے دوران بنچ کے 22اکتوبر کے حکم پر عمل نہیں کرنے پر فوج پر توہین کا قصوروار قرار دینے کے اشارے دیتے ہوئے کارروائی کرنے کا اشارہ دیا تھا۔
جج چندر چوڑ نے بنچ کاآرڈر نہیں ماننے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ فوج اپنے شعبہ میں سب سے آگے ہے لیکن جہاں تک آئینی عدالت کا سوال ہے یہ اپنے شعبہ میں سپریم ہے۔
مسٹر جین نے عدالت کے سخت موقف کا اندازہ لگاتے ہوئے سماعت دو بجے تک ملتوی کرنے کی گزارش اس یقین دہانئی کے ساتھ کی کہ فوج کے متعلقہ افسران سے ہدایات لیکر وہ عدالت کو واقف کرائیں گے۔