اسماعیل،اقبال اورمولانا ابوالکلام آزاد نے ایک عہد کو متاثر کیا ہے: پرو فےسر ناشر نقوی


شعبہ ¿ اردو،سی سی ایس ےو مےں ” اردو کی تےن اہم شخصےات :اسماعیل، اقبال اور آزاد کے تناظر مےں“ پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ12 نومبر2021ئ
اسماعیل،اقبال اورمولانا ابوالکلام آزاد نے ایک عہد کو متاثر کیا ہے۔ان تےنوں نے قوم کی اصلاح کے لیے جو کارنامے انجام دیے ان کو کبھی فراموش نہےں کیا جاسکتا۔ شاعری کے حوالے سے، سےاسی، سماجی اور اصلاحی کار ناموں کو جس ہنر مندی سے پیش کیا گےا ےہ ان ہی جیسی اہم شخصےات کے حصہ کی چےزےں تھےں۔ےہ الفاظ تھے سابق صدر شعبہ ¿ اردو، پنجابی ےو نےورسٹی ، پٹےالہ کے پرو فےسر ناشر نقوی کے جو شعبہ ¿ اردو، چودھری چرن سنگھ ےونےورسٹی اور بےن الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آےوسا) کے زےر اہتمام منعقد ”اردو کی تےن اہم شخصےات :اسماعیل، اقبال اور آزاد کے تناظر مےں“ موضوع پر اپنی صدارتی تقرےر مےں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزےد کہا کہ ان تےنوںحضرات کی تخلیقات سے تحرےک اور جذبہ پےدا ہو تا ہے۔ سماجی شعور ان کی تحرےروں مےں جلوہ گر ہے اور شخصےت بھی دےگر ادباءوشعراءسے منفرد ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز مفتی راحت علی صدیقی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں سعےد احمد سہارنپوری نے علامہ اقبال کی غزل مترنم آواز مےں پےش کی ۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادےب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی ۔مہمان خصوصی کے بطور سابق صدر شعبہ ¿ اردو، علی گڈھ مسلم ےونےورسٹی پروفےسر صغےر افراہیم نے آن لائن شرکت کی۔مقالہ نگاران کے بطور مولانا آزاد نےشنل اردو ےونےورسٹی ،حےدر آباد سے پروفےسرفاروق بخشی ،شعبہ ¿ اردو چودھری چرن سنگھ ےونےورسٹی ،مےرٹھ سے ڈاکٹر شاداب علیم نے باالترتےب مولانا اسماعیل میرٹھی ، علامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد پراپنے پر مغز مقالات پےش کیے۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد سےانوی اور شکریے کی رسم محمد تابش نے ادا کی۔
اس موقع پر استقبالےہ کلمات ادا کرتے ہوئے صدر شعبہ ¿ اردو پرو فےسر اسلم جمشےد پوری نے کہا کہ آج کا ےہ ادبی پروگرام تےن عبقری شخصےات پر ہے ۔ےوں تو اقبال کی شاعری کے ہزارہا گوشوں کو منظر عام پر لاےا جاچکا ہے ۔ان کی شاعری کو اسلام کی تشرےح ، قرآن کی تفسےراور فکر و فلسفوں کی تعبےر بھی کہا گےا ہے۔لیکن علامہ اقبال کے نزدےک ترقی کا راز ےہ ہے کہ قومیں اپنی زندگی کو سنوارنے کے لیے مسلسل جدو دجہد کرتی رہےں ساتھ ہی اپنے اعمال کا بھی احتساب کرتی رہےں اور زمانے کے مطابق اپنے اعمال کو ڈھالتی رہےں۔ےہی ترقی کا راستہ ہے۔ان کے فن، اسلوب ،شاعری اور افکار سے پوری قوم متاثر ہوئی ہے۔ ان کے حکیمانہ خےالات اور فلسفےانہ نظرےات نے شاعری کی نئی راہےں روشن کی ہےں۔ اس سلسلے مےں ان کا بڑا کا رنامہ ےہ ہے کہ انہوں نے مغرب کی قوت عمل کو مشرق کی روحانےت سے ملا کر پےش کیا ہے۔اگر ان کی شاعری کی بات کی جائے تو انہوں نے بچوں کے لےے بھی بہت خوبصورت نظمےں لکھےں اور میں دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حب الوطنی پر جتنا علامہ اقبال نے لکھا دنےا کے کسی اور شاعر کے ےہاں اتنے اعلیٰ درجے کی حب الوطنی پر شاعری نہےں ملتی۔
اس مو قع پر پڑھے گئے مقالات مےں ڈاکٹر شاداب علیم نے اسماعیل میرٹھی پر روشی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسما عیل میرٹھی ان معدودے چند ادےبوں مےں سے ہےں جنہوں نے اپنے دب کے ذرےعے ملک و قوم کی تعمیر مےں حصہ لیاہے اور جب کوئی ادےب مفکر دانشور اور ماہر تعلیم بھی ہوتا ہے تو اس کے ادب کے آ فاق بدل جاتے ہےں۔ اسماعیل میرٹھی نے نہ صرف اپنی تخلیقات سے قوم کی اصلاح کا کام کیا بلکہ قوم کے نو نہالوں کے مستقبل کو سنوارنے والا ادب پےش کر کے انسانےت کے تن مردہ کی جڑوں کو سینچنے کا فرےضہ انجام دےا۔ اسماعیل میرٹھی بچوں کے ساتھ ساتھ عوام کے بھی شاعر تھے۔انہوںنے اپنی شاعری مےں مشکل الفاظ، بھا ری بھر کم محا ورات اور دور ازکار تشبےہات و استعارات کے بجائے عوام مےں رائج الفاظ،روز مرہ کے محاورات استعمال کیے ہےں آج پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ الفاظ کی شعبدہ بازی سے گرےز کرتے ہوئے عام فہم اور سماج مےں رائج زبان کا استعمال کرےں۔ اسماعیل مےرٹھی نے نہ صرف اعلیٰ درجے کی شاعری کی بلکہ تعلیم کے فروغ مےں بھی اہم کردار ادا کیا۔سر سےد احمد خاں اپنے تعلیمی مشن کے لیے مےرٹھ تشرےف لائے تھے تو اسما عیل میرٹھی نے ان کے تعلیمی اداروں مےں نہ صرف ان کا ساتھ دےا بلکہ ان کا مالی تعاون بھی کیا۔
عارف نقوی نے کہا کہ ترقی پسند تحرےک سے جو سیکھا ہے وہ اقبال سے اور اقبال سے آگے اسلام نے ترقی پسندی کی تعلیم دی۔اقبال، آزاد اور اسماعیل کے سوچنے کا انداز جدا تھا اور اس منفرد انداز سے قوم نے خوب خوب فائدہ اٹھاےا۔مولا نا آزاد نے جو کہا ہے اس کی اہمےت آج بھی بہت زےادہ ہے۔انہوں نے جو کچھ لکھا ہے ہمےں اس کو ایک بار پھر مقبول کرنا ہے ان کی تحرےروں کو پھر سامنے لاےا جانا چاہئے۔علامہ اقبال اور مولا نا ابولکلام آ زاد تےنوں ہی شخصےات جامع صفات و کمالات سے پر ہےں اور تےنوں ہی شخصےات نے نہ صرف اردو کے خزانے مےں بےش بہا اضافہ کیا ہے بلکہ پوری قوم کی اصلاح اور اپنے باقےات سے نئی نسل کو بھی حوصلہ اور علمی روشنی سے منور کیا ہے۔مولانا کی زندگی ہمارے لیے نمو نہ ¿ عمل ہے۔مولانا آزاد جہد مسلسل کا نام ہے۔انہوں نے جیل مےں رہ کر بھی تصنےف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا اور جدےد ہندوستان کا تعلیمی نظام آپ ہی کا مرہون منت ہے۔
پروفےسر فاروق بخشی نے کہا کہ مولا نا آ زاد بھی ایک عبقری شخصےت کے مالک تھے۔انہوں نے طفلانہ دور سے ہی صحافت کے ساتھ ساتھ خطابت اور علمی صلاحےتوں کے جوہر بھی دکھانا شروع کردیے تھے۔”الہلال “اور” البلاغ“ ان کی ادبی صحافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ترجمان القرآن ،الہلال ،البلاغ کے ذرےعے پوری قوم کو جھنجھوڑنے کا کام کیا۔ ساتھ ہی مولا نا ابوالکلام آزاد نے ملک کی آزادی اور جدےد ہندوستان کی تعمیر و تشکیل مےں جو کارہائے نماےاں انجام دیے اسے فرا موش نہےں کیا جاسکتا۔وہ ایک بے مثال مقرر، خطےب،مفسر قرآن، ادےب اور صحافی ہی نہےں بلکہ ان کی سےاسی بصےرت اور بصارت بھی قابل رشک تھی۔
پروفےسر صغےر افراہیم نے کہا کہ آج کے عہد مےں اسماعیل،اقبال اور آزاد جےسے کلام کی بہت ضرورت ہے۔ اقبال کی نظموں سے ہمےں جہاں اچھا درس ملتا ہے وہیں آزاد اور اسما عیل میرٹھی کے کلام نے قوم کو جھنجھوڑ نے کا منفرد کار نامہ انجام دےا ہے۔ سماجی مسائل کو مولانا آزاد نے خوبصورتی سے اُ جاگر کیا۔
اس مو قع پر پروگرام مےںڈاکٹر عبد الباری ،ڈاکٹر ولا جمال العسیلی ،سےدہ فاطمہ النساءاسمائ، محمد شمشاد، شا ہانہ، فےضان ظفر،فردوس سلطانہ،فر مان،عبد الواحد وغےرہ آن لائن جڑے رہے۔