ڈینگو کا ڈنک: اندور میںگذشتہ چار دنوں میںملے 52نئے مریض


اندور11نومبر(نیا نظریہ بیورو)شہر میں ڈینگو کے نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ چار دنوں میں کل 52 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ ان سمیت کل تعداد 880 تک پہنچ گئی ہے۔ اس وقت 21 فعال مریض ہیں جن میں سے 9 داخل ہیں۔ وجے نگر، نندن وان کالونی، کھجرانہ، جئے منگل ریزیڈنسی، راج نگر، چندن نگر، پٹنی پورہ، وینکٹیش نگر، اسکیم 54، سکھلیہ، شیام نگر، سری نگر ایکسٹینشن وغیرہ میں نئے مریض پائے گئے ہیں۔
ویسے جمعرات کو 15 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل بدھ کو 15، منگل کو 6 اور پیر کو 16 مریض پائے گئے تھے۔ اس سے پہلے دیپوتسو کے دوران اکتوبر کے 10 دنوں میں خاصی کمی آئی تھی۔ 30 اکتوبر کو 10 نئے مریض پائے گئے۔ اس کے بعد 3 نومبر کو 15 نئے مریض براہ راست سامنے آئے۔ اس کے بعد اوسطاً اتنی ہی تعداد میں روزانہ نئے مریض آ رہے ہیں۔ نئے علاقوں میں جہاں ڈینگو کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں لاروا کے نمونے لینے کے ساتھ سپرے بھی کیا جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ ملیریا آفیسر ڈاکٹر دولت پٹیل نے بتایا کہ ڈینگو مچھروں کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو جمے ہوئے پانی میں افزائش پاتے ہیں جبکہ ڈینگی ایڈیس ایجپٹائی (مادہ مچھر) کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ بخار مچھروں سے پھیلنے والی بیماری ہے۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گھروں میں یا اس کے آس پاس ایک جگہ پانی زیادہ دیر تک جمع رہتا ہے۔ جیسے کولر، واش ایریاز، سنک، گملوں وغیرہ میں پانی کبھی کبھی ٹھہر جاتا ہے جو ڈینگی کا سبب بنتا ہے۔لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی کو کھڑا نہ ہونے دیں اور نکاسی کے انتظامات کریں۔
پانی جمع ہونے کی صورت میں ایڈیس مچھر متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان مچھروں کی فطرت یہ ہے کہ یہ دن میں کاٹتے ہیں۔کچھ دیر بعد جو لوگ اس سے متاثر ہوئے ان کو تیز بخار، جسم پر سرخ دانے، سر، ہاتھ پاو ¿ں اور جسم میں شدید درد، بھوک نہ لگنا، قے، اسہال، گلے کی سوزش، پیٹ میں درد اور جگر میں سوجن وغیرہ۔ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ایسی صورت حال میں متعلقہ شخص کو فوری طور پر ڈاکٹروں کو دکھانا چاہیے۔ اس کے بعد اس کا بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اسے ڈینگی یا کوئی اور بیماری ہے۔
مچھروں کو دور رکھنے کے لیے مچھر بھگانے والی مشینیں، کریمیں، کوائلز اور سپرے استعمال کریں۔کھڑکیوں اور دروازوں کو محفوظ رکھیں یا اگر ضروری ہو تو مچھر دانی کا استعمال کریں۔اگر ممکن ہو تو، گھر کے اندر ائر کنڈیشنگ کا استعمال کریں۔