پولیس کے ہاتھوں ڈاکٹروں کی پٹائی قابل مذمت :کمل ناتھ


بھوپال :9اپریل(نیانظریہ بیورو)
سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے ایمس پی جی کے دو ڈاکٹروں پرپولس کے ذریعہ حملے کی مذمت کی ہے۔ کمل ناتھ نے ٹویٹ کیا ہے کہ بھوپال ایمس کے دو پی جی ڈاکٹروں بشمول ایک خاتون ڈاکٹر کو پولیس اہلکاروں کے ذریعہ پیٹے جانے کا واقعہ منظرعام پر آگیا ہے ، جو ریاست کے لئے انتہائی شرمناک ہے۔کمل ناتھ نے کورونا وائرس میں ڈاکٹروں کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوروناوبائی بحران کے اس دور میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر عوام کی خدمت کرنے والے کرم ویر جنگجوو¿ں پر فخر ہے۔ ڈاکٹروں کو زدوکوب کرنے کا واقعہ انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔کمل ناتھ نے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت فوری طور پر پورے معاملے کی تحقیقات کرے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔سابق وزیراعلیٰ کاکہنا ہے کہ اس وقت ہم جس دورسے گزررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔لیکن اپنی جان کی فکرنہ کرنے والے اس وبائی مرض میں لوگوں کی خدمت کررہے ہیں اور ریاست وملک کواس وباءسے محفوظ رکھنے میں اہم کردار اداکررہے ہیں۔ایسے وقت میں ڈاکٹروں پرتشددکرنا انسانیت کے منافی ہے۔ایسے پولس اہلکاروں کے خلاف جانچ کی جائے اورمجروموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔واضح رہے کہ اگراس طرح ڈاکٹروں پرپولس حملے کرے گی توکوئی ڈاکٹرخدمات دینے سے منع کرسکتاہے۔ایسے میں ہم متاثرہ مریضوں کاعلاج کیسے کریں گے اورریاست کواس وباءمحفوظ کس طرح رکھ سکیں گے۔وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اس معاملے میں اپنارخ صاف کرناچاہئے اورمتاثرہ ڈاکٹروں کے ساتھ کھڑا ہوناچاہئے۔تاکہ ڈاکٹروں کی بھی حوصلہ افزائی ہو۔
باکس
فوٹوبدسلوکی
ڈیوٹی سے لوٹ رہے ڈاکٹروں کے ساتھ زودکوب کامعاملہ آیاسامنے:
مدھیہ پردیش کے بھوپال میں ایمس میں ڈیوٹی کر لوٹ رہے ڈاکٹروں کے ساتھ پولس اہلکاروں کے ذریعہ مارپیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ان میں سے ایک خاتون ڈاکٹر بھی ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ ایمرجنسی ڈیوٹی کر گھر لوٹ رہے تھے اور اس دوران پولس اہلکاروں نے انہیں روک کر نہ صرف ان کے ساتھ بدسلوکی کی بلکہ انہیں لاٹھی سے مارابھی جس سے ڈاکٹروں کوکافی چوٹےں بھی آئی ہےں۔ذرائع کے مطابق 8اپریل کو دونوں ڈاکٹرایمس سے ڈیوٹی کرلوٹ رہے تھے، اسی دوران ایمس کے گیٹ نمبر 1کے پاس پولس والوں نے انہیں روکا اور سوال جواب شروع کردیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب ان کے ذریعہ بتایا گیا کہ وہ ایمس میں ڈاکٹرہیں اور ڈیوٹی سے لوٹ رہے ہیں تو پولس والوں نے کہا کہ یہ ڈاکٹر ہی ہیں جو کورونا پھیلا رہے ہیں۔ ان کے ذریعہ آئی ڈی کارڈ دکھانے پر بھی پولس اہلکارنہیں مانے اورڈاکٹروں پرتشددشروع کردیا۔وہیں ڈاکٹروں کاالزام ہے کہ لاٹھیوں سے مارا بھی گیا ہے۔جس سے انہیں کافی چوٹیں آئی ہیںا وران ہاتھ اورپیرٹوٹ گیا ہے،فی الحال ابھی پلاسٹرلگا ہے۔اورعلاج بھی جاری ہے۔
پولیس اہلکارکو ڈاکٹروں سے بدسلوکی پڑی مہنگی:
بھوپال کے ایمس اسپتال میں ڈیوٹی سے واپس آنے والے دو ڈاکٹروں سے پولیس اہلکاروں کی بدتمیزی بھاری پڑگیا۔ اس معاملے میں پولیس اہلکار کو فی الحال لائن اٹیج کردیاگیاہے۔ در حقیقت ، بدھ کی رات ، ایمس میں ڈیوٹی کر واپس گھرلوٹ رہےں ڈاکٹر رپوپرنا اور اس کے ساتھی ڈاکٹر یووراج کی اسکوٹی کو روکاگیا،پھر ان سے پوچھاگیاکہ کہاں سے آرہے ہو، پوچھ گچھ کے بعد پولس نے یہ کہتے ہوئے مارا پیٹا کہ اس طرح کی حرکت کی وجہ سے ملک میں کورونا پھیل رہا ہے۔جس کے بعد پولس نے مزید ڈاکٹروں کو زدوکوب کیا۔ایس پی کا آرڈر:تاہم تفتیش کے دوران ، دونوں ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وہ ایمس او پی ڈی میں ڈیوٹی سے واپس گھرجارہے ہیں،اس دوران انہوں نے اسپتال کا آئی کارڈبھی دکھایا۔اس واقعہ میں دونوں ڈاکٹروں کو بھی چوٹیں آئیں ہیں۔ جس کے بعد ایمس ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ایمس کے ڈائریکٹر کو تحریری شکایت کی۔جس کے بعد ان پرکارروائی کی اورپولس اہلکار کولائن اٹیچ کردیاگیا۔