جو نیک ہےںوہ تیرے ہیں اور گنہگار سب میرے ہیں:


دیواس میں اندرا نگر پنچایت کی جانب سے ہواایک روزہ جلسے کا انعقاد
دیواس10نومبر(ڈاکٹر رئیس قریشی)گیارہویں شریف کے موقع پر اندرا نگر پنچایت کی جانب سے ایک روزہ تقریر کا انعقاد کیا گیا۔جس میں آل انڈیا امام مشائخ بورڈ کے صدر مولانا محمد اشرف اشرفی جیلانی اور سید عالمگیر اشرف اشرفی نے خطاب کیا۔حضرت عالمگیر نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ یزید تھا جو مٹ گیا زمانے سے، یہ حسین ہے جن کا نام و نشاں باقی ہے۔آپ نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اس دور کے قوم میں کئی سال کام کیا اور تبلیغ کی لیکن صرف 40 لوگوں کو ہی ایمان میں داخل کرا سکے۔مگر قربان جائےے میرے آقا پر، ان کی سیرت پر، ان کی زندگی کے طریقے پرکہ لوگ ان کے ساتھ شامل ہوتے رہے اور قافلہ بڑھتا گیا۔مسلسل23 سال محنت کرکے آپ نے ایک لاکھ لوگوں کو اللہ کا راستہ دکھایا اور ایمان کا کلمہ پڑھایا۔آج ان کے چاہنے والے دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔
مزید آپ نے فرمایا کہ اگر تم مغفرت چاہتے ہو تو اہل بیت سے محبت کرو کیونکہ اہل بیت کا شجرہ اپنے آقا سے ملتا ہے اور آقا کے مغفرت کرائے بغیر جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔آپ نے اپنے رب سے کہا کہ جو نیک بندے ہیں وہ سب تیرے ہیں جو گنہگار ہیں وہ میرے ہیں اور میں ان کو بخشا کر ہی سکون لوںگا۔
حضرت مولانا سید محمد اشرفی صاحب نے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے حضرت محمد ﷺ کو صرف مسلمانوں کے لیے رحمت بنا کر نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ دوں گا جس کا تم تصور کر سکتے ہو اور حقیقت میں انہیں وہی دیا جس پر وہ راضی ہو گئے۔دوسری طرف انہیں سے یہ بھی بتا دیا کہ اے میرے پیارے اپنے پیاروں سے کہہ دو اس دنیا کی بساط میری نظر میں رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں۔جو دنیا کو سب کچھ سمجھتا ہے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ جس کو تو نے سب کچھ سمجھا ہے وہ آقا اور آقا کے رب کی نظر میں کچھ بھی نہیں۔آپ نے بتایا کہ میری نظر میں دنیا کو آباد ہوئے تقریباً 12 ہزار سال ہوچکے ہیں اور آج تک کوئی شخص حضرت محمد صاحب کی سیرت کو پوری طرح نہیں پہچان سکا، پھر آپ ان کے رب کی صفت کو کیسے سمجھیں گے سوچنے کی بات ہے۔
اس فرقہ پرستی کے دور میں بھی جب مسلمانوں کو دوسری قوموں کی طرف سے ہمہ گیر حملوں سے تنگ کیا جا رہا ہے، صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے، (شیعہ سنی وہابی نہ ہونے کی وجہ سے) ایسی صورت حال میں سب دنگ رہ گئے جب اسٹیج سے 24،26 شیعہ سنی اور وہابیوں کو اہل سنت سے مختلف اور اوپربتاکر تقریر کی جانے لگیں۔جبکہ آج کے دور میں ان باتوں کی کوئی ضرورت نہیں، علمائے کرام کو چاہیے کہ آپس میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کریں، تفرقہ ڈالنے کی نہیں۔اس موقع پر بہت سے دیگر علمائے کرام نے بھی خطابات کئے۔پروگرام کا آغاز نعت خوانی سے ہوا اور پروگرام کے آخر میں شہر کے سینئر نائب قاضی نعمان احمد اشرفی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر سینئر شہر قاضی جناب عرفان احمد اشرفی اپنے ساتھیوں کے ساتھ سٹیج پر جلوہ افروز تھے۔