طویل علالت کے ماہر اقبالیات ڈاکٹر اخلاق اثر کا بھوپال میں انتقال


بھوپال10نومبر(نیا نظریہ بیورو)ماہر اقبالیات ڈاکٹر اخلاق چوارسی سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد اپنے مالک حقیق سے جاملے۔1929میں دارالحکومت بھوپال میںپیدا ہوئے داکٹر اخلاق اثر نے اپنے زندگی کے آخری لمحات بھی بھوپال میںہی گذارے اور آج اپنے مالک حقیق کے پاس چلے گئے۔واضح رہے کہ اخلاق اثر مایہ ناز ادیب،ناقد اور ماہر اقبالیات تھے۔انہوںنے آل انڈیا اُردو نشریات پر تحقیق کام کیا ہے جو ناقابل فراموش ہے۔ان کے جانے کے بعد اس کی اہمیت کا اندازہ اور بڑھ جائے گا۔
ڈاکٹر اخلاق اثر کو عصر کی نماز کے بعد بھوپال تکیہ قلندر شاہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں بھوپال کے شاعروں اور ادیبوں نے شرکت کی۔ ان کا تعلیمی سفر بھی بھوپال میںہی پروان چڑھا۔ انہوں نے شعری اصناف سے ہٹ کر اردو کی نثری اصناف پر طبع آزمائی کی اور کئی کتابیں اور تحقیقی مضامین لکھ کر اردو کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔نشریات اور آل انڈیا ریڈیو، مکاتب احتشام اقبال اور ممنون، احتشام حسین ایک مطالعہ، اردو ڈرامہ کی تاریخ، ریڈیو ڈرامہ کی اصناف، ریڈیو ڈرامہ کا فن، مٹھی بھر دھول، اقبال نامے، اقبال اور شیش محل ، اردو کا پہلا ڈرامہ ڈاکٹر اخلاق اثر کی کتابیں ہیں۔
مختلف ادباءاور شعراءنے ان کے سانحہ ارتحال کو ناقابل تلاف خسارہ بتایا ہے۔وہ ہمیشہ اپنی تحریروں کے حوالے سے یاد کئے جاتے رہےںگے۔اخلاق اثر اپنی تحریروں میں جو اثر رکھتے تھے اب وہ لوگ ہمارے سماج میں نہیں ہیں۔ ہمارے سماج میں شاعری کے نام پر طبع آزمائی کرنے والے تو بہت ہیں مگر نثر نگار انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔
ان کے انتقال پر جمعیة علماءکے صدر حاجی محمد ہارون نے بھی اظہار تعزیت کی ہے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اخلاق اثر نے اپنی چوراسی سالہ زندگی میں جو ادبی خدمات انجام دیں وہ بہت اہم ہیں۔ خاص کر انہوں نے اقبال نامے اور اقبال و شیش محل کو لے کر جو کتاب لکھی ہے ، اس سے اقبالیات کے فروغ میں نئے دروازے وا ہوتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ انہیں جوار رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔