ممبر پارلیمنٹ کا متنازعہ بیان:


صبح 5 بجے زور زور سے آنے والی اذان کی آواز سب کی نیندحرام کرتی ہے:پرگیہ سنگھ ٹھاکر
بھوپال10نومبر(نیا نظریہ بیورو)بھوپال سے بی جے پی ممبرپارلیمنٹ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے لیے متنازع بیانات دینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سادھوی اپنے بیانات کی وجہ سے ہمیشہ تنازعات اور سرخیوں میں رہتی ہیں۔ بھوپال سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کو اب صبح کی اذان سے تکلیف ہونے لگی ہے، جس پر انہوں نے اعتراض کیا ہے۔ ایک پروگرام کے دوران پرگیہ ٹھاکر نے کہا کہ صبح 5 بجے زور زور سے آوازیںآتی ہیں۔ یہ آواز سب کی نیندحرام کرتی ہےں۔
ممبر پارلیمنٹ نے بھوپال کے بیرسیہ میں منعقد ایک مذہبی پروگرام میں کہا کہ کچھ مریض ایسے ہیں جو رات بھر سو نہیں پاتے ہیں تو ان کا بلڈ پریشر بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باباو ¿ں اور بھکشوو ¿ں کے مراقبہ کا وقت بھی صبح 4 بجے ہوتا ہے، لیکن کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ دوسری برادریوں کی نماز کے دوران اونچی آواز میں بھجن نہ بجائیں، لیکن یہ لوگ روزانہ صبح لاو ¿ڈ اسپیکر سے لوگوں کو ہراساں کرتے ہیں۔
ایم پی نے کہاکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں، ہمارے اسلام میں کسی بھی مذہب کی عبادت سننا جائز نہیں ہے۔ ہندو سب کا خیال رکھتا ہے، ہمارے ہاں تمام مذاہب کا یکساں احترام ہے، لیکن کوئی دوسرا مذہب ایسا نہیں کر رہا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ وہ پہلی خاتون نہیں ہیں جنہوں نے اذان پر اعتراض کیا ہے بلکہ ان سے پہلے مشہور گلوکار سونو نگم نے کچھ سال قبل اذان پر اعتراض کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ ‘صبح کے وقت لاو ¿ڈ اسپیکر کی آواز سے بہت پریشانی ہوتی ہے۔’ ان کے اس بیان پر کافی تنازعہ ہوا تھا۔
ممبر پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے 10 اکتوبر کو بھوپال میں بھارت بھکتی اکھاڑہ کے دفتر کے لانچ پروگرام میں کہا تھا کہ ملک کے مندروں کو حکومت کی سرپرستی سے آزاد کیا جانا چاہئے۔ حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے مندروں میں عقیدت مندوں کا چندہ ہندوو ¿ں کی ترقی کے بجائے اقلیتوں کو جاتا ہے۔ ہماری جگہیں (مندر) حکومت کے قبضے میں رہیں۔ حکومت کی حفاظت میں رہتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اس کے چیئرمین ہیں۔ ہندو مندروں کی دولت، بڑے مندروں کی دولت اقلیتوں کے پاس جاتی ہے۔