افغانستان عالمی دہشت گردی کا مرکز نہ بنے : دہلی اعلامیہ

نئی دہلی، 10 نومبر: افغانستان پر تیسرے علاقائی سیکورٹی ڈائیلاگ میں آٹھ ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری دہلی اعلامیے میں اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ افغانستان بنیاد پرستی، انتہا پسندی سے مبرا رہے اور کبھی بھی عالمی دہشت گردی کا ذریعہ نہ بن پائے اور افغان معاشرے میں تمام طبقات کو بلا متیاز اور مساوی انسانی امداد مل پائے۔
قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبال کی صدارت میں یہاں ہوئی کثیرالجہتی میٹنگ میں ایران، روس، قازقستان، کرغزستان ، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے قومی سلامتی مشیروں یا سلامتی کونسل کے سیکرٹریوں نے شرکت کی ۔ ہندوستان کی پہل کے تحت منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں پاکستان اور چین کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔
میٹنگ میں قومی سلامتی کے مشیروں اورسلامتی کونسل کے سیکرٹروں میں ایران کی اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری ریئر ایڈمرل علی شمخانی، قازقستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین کریم ماسیموف ، کرغزستان کی سلامتی کونسل کے سکریٹری مارٹ مکانووچ ایمانکولوف ، روس کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نکولائی پی پیٹروشیف ، تاجکستان کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نصرولو محمود زودا ، ترکمانستان کی کابینہ کے نائب چیئرمین چارمیرات کاکالیویچ اماووف اور ازبکستان کے ماتحت سکیورٹی کونسل کے سکریٹری وکٹر مخمودوف شامل تھے ۔