عالمی یومِ اُردو: مولانا آزاد قومی اُردو یونیورسٹی کے ریجنل سینٹر میں منعقد ہوا پروگرام

بھوپال09نومبر(پریس ریلیز)آج اُردو دنیا کے مختلف ممالک میں بولی اور سمجھی جا رہی ہے ۔ مولانا آزاد قومی اُردو یونیورسٹی کے ریجنل سینٹرمیں اردو کے مسائل ، اس کی مقبولیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ، نعیم کوثر نے بحیثیت صدر کے بولتے ہوئے کہا کہ اردو اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں بولی جا رہی ہے اور دنیا کی پانچویں اہم اور بڑی زبانوں میں شمار کی جاتی ہے ۔ اس میں جو ادب تخلیق کیا گیا ہے وہ دنیا کے بہترین ادب کے مقابل ہے، اس میں مزید دلچسپی لینا چاہیے۔پروفیسر محمد احسن نے اس موقع پر کہا کہ ہم کو اردو کی ترقی کے لیے پریشر گروپ بنانا ہوگی اس کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا اور ساتھ ہی مختلف علوم کو اردو میں شائع کیا جانا چاہیے۔ ظفر صہبانی نے اس موقع پر اردو کی عصری صورتحال پر منظوم خیالات کا اظہارکرتے ہوئے فرمایا ۔
”گھروں میں دیکھا تو اردو ہی نہیں آتی
کوئی غالب کا وارث ہے کوی میر والا ہے “
پروفیسر محمد نعمان خاں نے اس موقع پر اردو کی حقیقی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ گھروں میں اردو کو زندہ کیجئے کہ یہ تہذیب کی بھی زبان ہے۔ اقبال مسعود نے اس موقع پر کہا کہ اردو کی کتابوں کے فروغ کے لیے نئے بازار تلاش کرنا ہوں گے۔ سادات خان نے کہا کہ نوجوانوں کو اردو کی طرف راغب کرنا چاہئے اور اس کے لئے لائحہ عمل بنانا پڑیں گے۔
پروگرام میں شاعری ، خاکہ نگاری، اور تقاریر کے ذریعہ ڈاکٹر اعظم ، محمد ملک ، کلیم اختر، نفیسہ سلطان انا، عبد اللہ ، مظفر اقبال ، مہتاب عالم شائق ، سراج صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ پروفیسر ودود صدیقی ، عبد الرشید خاں کے ساتھ شہر کے سربراہ افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔