تریپورہ میں مسلم اقلیتوں کے خلاف تشددپر بھوپال میں احتجاج:

سوسے زائدافراد کےخلاف یو اے پی اے کے تحت کارروائی کئے جانے پر کیا گیا مظاہرہ
بھوپال09نومبر(نیا نظریہ بیورو)تریپورہ میں مسلم اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اس تشدد کے خلاف احتجاج کرنے والے سو سے زائد انسانی حقوق کارکنوں پر ےو اے پی اے کے تحت کی گئی کارروائی کے خلاف بھوپال کے نیلم پارک میں احتجاج کیا گیا۔مظاہرین نے تریپورہ کی بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرے کے دوران مظاہرین نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں فوری مداخلت کرے اور تریپورہ میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرے۔مسلم اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کو فوری طور پر بند کیا جائے اور ان لوگوں، تنظیموں اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو منظم طریقے سے تشدد کا ارتکاب کر رہے ہیں۔فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو مناسب مالی امداد دی جائے، تمام انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاءاور دیگر جنہوں نے واقعے کی مخالفت کی اور سچائی کو بے نقاب کیا، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (ےو اے پی اے) کے تحت درج مقدمات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔مدھیہ پردیش لوک تانترک ادھیکار منچ کے وجئے کمار نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں تمام جمہوری اداروں کا قتل کیا جا رہا ہے۔آئین اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک مخصوص برادری کے لوگوں کے خلاف منصوبہ بند اور منظم تشدد کیا جا رہا ہے۔تریپورہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں کو بھول کر مسلم اقلیتوں کے خلاف بدنیتی سے کام لے رہی ہے۔تمام جمہوریت پسند اور عوام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔اس لیے آج ہمیں جمہوریت، سیکولرازم، انصاف اور آئین کے دفاع کے لیے مل کر لڑنا ہے۔مدھیہ پردیش ڈیموکریٹک ادھیکار منچ، نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (این سی ایچ آر اُو)، اے پی سی آر، مسلم مہاسبھا سمیت عام شہریوں نے مظاہرے میں حصہ لیا۔