عالمی یوم اُردو: جمعیة علماءنے کیا ایصال ثواب،اقبال میدان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

بھوپال09نومبر(پریس ریلیز)شاعر مشرق علاقہ اقبال ایک مفکر، مدبر، فلسفی ، مصلح قوم اور بے بدل شاعر تھے۔ اقبال ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے حیات و کائنات کے مختلف اور متنوع مسائل پر غور وفکر کیا اوربرسوں کی غور وفکر کے بعد شاعر و نثری شہ پاروں کے ذریعہ حکیمانہ اور بصیرت افروز افکار دنیا کے سامنے پیش کئے۔ اقبال نے انسان کی خودی کو بیدار کرنے ، ظلم و بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے، قوموں کے بیچ اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کا جو نسخہ کیمیا اپنے کلام سے پیش کیا تھا اس کی معنویت نہ صرف بڑھتی جا رہی ہے۔ بلکہ دنیا کو آج کلام اقبال کی روشنی میں عالمی امن کا روشن پہلو بھی نظر آتاہے۔ علامہ اقبال کی برسی سے پہلے اقبال میدان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ صدر جمعیت علماءمدھیہ پردیش حاجی محمد ہارون صاحب کی رہنمائی اور ہدایت پر ذمہ داروں سے کیا گیا تھا۔لےکن افسوس کوئی بہتر نتائج نہیں نکلے۔جمعیة کی ٹیم نے پہلے بھی یادگار علامہ اقبال مرحوم کو سنوارنے کی کوشش کی تھی اور وہ اب بھی جاری ہیں ۔جمعیة کی ٹیم نے اقبال کو یاد کرتے ہوئے اقبال کے کلام کی معنویت پر روشنی ڈالی آج کے دن کو یوم اردو کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ اس لئے پہلے جمعیة علماءکے ذریے علامہ اقبال مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور دعائے مغفرت کی گئی ۔مرحوم کے لئے ثواب جاریہ کے طور پر بچوں میں بطور تحفہ قرآن ہدیہ کیے گئے اردو زبان کو فروغ دینے کی منشا سے بچوں میں اردو کی ابتدائی کتابیں تقسیم کی گئی۔ جمعیة علماءمدھیہ پردیش کے پریس سیکرٹری حاجی محمد عمران نے بتایا کی بھوپال سے علامہ اقبال کا گہرا رشتہ تھا۔ علامہ اقبال نے بھوپال میں اپنے وطن کے بعد نہ صرف سب سے زیادہ قیام کیا ، بلکہ انہوں نے بھوپال میں قیام کے دوران جو چودہ شاہکار نظمیں تخلیق کی تھیں ، وہ اردو ادب کی بیش قیمتی سرمایہ ہے۔ بھوپال میں اقبال نے راحت منزل، شیش محل، شوکت محل اور ریاض منزل میں قیام تھا۔ اقبال کے انتقال کے بعد متحدہ ہندستان میں اقبال کی یاد میں سب سے پہلی لائبریری بھوپال میں قائم کی گئی تھی۔ آج بھی اس اقبال لائبریری میں نایاب کتابوں کے اسی ہزار سے زیادہ بیش قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ بھوپال میں اقبال مرکز اور اقبال میدان میں بھی قائم ہے۔ بھوپال میں ہمیشہ اقبال کی یوم ولادت اور یوم وفات کے موقع پر جشن کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔نیز اقبال میدان کو تحفظ فراہم کرنے، اقبال مرکز کا دوبارہ قیام کرنے ،علامہ اقبال کے نام سے دیے جانے والے ایوارڈ کو پھر شروع کیے جانے کا مطالبہ عرصہ دراز سے کیا جاتا رہا ہے اور اس بار بھی علامہ اقبال کی برسی سے پہلے ان مطالبات کو دہرایا گیا تھا ۔کسی بھی محکمے کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی اور افسوس یہ مطالبات وہی کے وہی ہیں ۔جمعیة کی ٹیم نے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پہل کی ہے کہ شہر میں علامہ اقبال مرحوم کی یاد میں اقبال میدان تو قائم ہے پر اس میدان میں علامہ اقبال کون تھے ان کی خدمات اور شہر بھوپال سے ان کا رشتہ جس کو آنے والی نسلیں جان سکے اور بھوپال انے جانے والے بھی انکی شخصیت سے واقف ہوں پورے میدان میں ان کا کوئی تعارف نہیں ۔آج جمعیة کی ٹیم نے میدان مےں علامہ اقبال مرحوم کا تعارف چسپاں کیا اور جلد از جلد اس تعارف کو پتھر میں بھی لگوانے کا فیصلہ کیا گیا ۔
علامہ اقبال نے ہمیں مشکل وقت میں انسانوں کے کام آنا سکھایا ہے۔ کلام اقبال کے مطالعہ سے ہمیں زندگی کو بہتر ڈھنگ سے جینے کا جہاں شعور آتا ہے۔ وہیں ہمیں برادران وطن کے بیچ کام کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔
بھوپال میں اقبال لائبریری اور اقبال میدان تو قائم ہے مگر عدم توجہی کے سبب اب شکستہ ہو رہے ہیں۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اقبال لائبریری کے وسائل کی جانب توجہ دی جائے ساتھ ہی اقبال میدان کی تزئین کاری بھی کی جائے۔ تاکہ اقبال سے بھوپال کا جو مضبوط رشتہ تھا وہ آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جا سکے ۔ اس جانب بھوپال کی ادبی انجمنوں کو بھی توتوجہ دینے کی ضرورت ہے ۔