ان للہ وانا الیہ راجعون کو مرنے پر ہی نہیں بلکہ تکلیف پہنچنے پر بھی پڈھتے ہیں،حاجی محمد اقبال

آگرہ۔ مسجد نہروالی سکندرا آگرہ میں خطبہ جمعہ پیش کرتے ہوئے حاجی محمد اقبال نے کہا کہ آج جو موضوع میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے سورہ بقرہ کی اس آیت کو ایک طرح سے مرنے کے تعلق سے فکس کرلیا ہے ان للہ وانا الیہ راجعون اکثر لوگ اس کو مرنے پر پر ہی پڑھتے ہیں جبکہ اس کا اگر آپ ترجمہ دیکھیں گے تو معلوم ہو گا یہ اس وقت پڑھ سکتے ہیں جب کہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچے مثال کے طور پر پر اگر کوئی مجھے یہ کہے کہ عبدالرحمن آج کل بیمار ہے تو مجھے تکلیف ہوگی یہ بات سن کر میں پڑھ دوں ان للّٰہ و انا الیہ راجعون سامنے والا یہ کہے گا کہ بھائی ابھی تو بیمار ہے ان کا انتقال نہیں ہوا یعنی آدمی صرف انتقال کے وقت اس کو پڑھتا ہے ارے بھائی اگر آپ کی کوئی چیز گم ہو جائے کوئی نقصان ہو جائے کوئی اور تکلیف ہو جائے یا کوئی خبر آپ ایسی سن لیں جس سے آپ کو تکلیف پہنچے تو اس پر یہ قرآن کریم کی آیت آپ کو پڑھنی چاہیے کیونکہ اس میں جو کہا گیا ہے اس کا ترجمہ ہے جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں یہ سورہ بقرہ کی آیت کا ترجمہ میں نے آپ کے سامنے پڑھا لیکن ہم نے اس کو جان لیا کہ یہ صرف مرنے پر ہی پڑھی جائےگی آئیے اب ہم دوسری بات کی طرف آتے ہیں اللہ تبارک و تعالی نے جب فرعون کو موسی علیہ السلام کی طرف بھیجا تو کہا کہ اس سے نرمی سے بات کرنا اچھے انداز میں بات کرنا شاید کہ وہ مان لے اسی طریقے سے قرآن کریم جو کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اور صرف مسلمانوں کی کتاب ہے ہے جبکہ اصل میں یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے ہے اگر آپ کے پڑوس میں کوئی غیر مسلم ہے ہے یا آپ کا کاروبار غیر مسلم سے ہے اس کے یہاں کسی کا انتقال ہوتا ہے تو ظاہر بات ہے مجھے اس سے تکلیف ہوگی تو یہ آیت پڑھ سکتا ہوں جس کو لوگ صرف اور صرف مرنے اور مسلمانوں کے لئے ہی سمجھتے ہیں جب پورا کا پورا قرآن پوری دنیا کے انسانوں کے لئے ہے تو اس کی یہ آیت تو غیر مسلم پر کیوں نہیں پڑھی جا سکتی تو اس لیے اکثر لوگ غیر مسلم کے لیے الفاظ ڈھونڈتے ہیں کہ کیا کہے یہ بات صحیح ہے کہ جہاں تک شمشان گھاٹ کا مسئلہ ہے وہاں شامل نہ ہوا جائے لیکن آپ تعزیت کے لئے ان کے گھر جا سکتے ہیں اور ان کے یہاں جو پروگرام ہوتا ہے اٹھاؤ نی کے نام پر اس میں بھی آپ شریک ہو سکتے ہیں یہ انسانیت کا تقاضا ہے جب ہم انسانیت کے طور پر غیر مسلم سے رابطہ رکھیں گے تو یقینا ان کے دل میں اسلام کے تئیں محبت بڑھے گی نہ کہ نفرت اس لئے ہم کو اپنے برادران وطن کو اپنا ساتھی بنانے کے لیے ہم کو یہ تمام چیزوں میں ان کو اور ان کے ساتھ ہم کو شریک ہونا چاہیے تاکہ آپس میں بھائی چارہ محبت انسانیت بڑھے اللہ تبارک وتعالی ہم سب کو نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین