اسلام پر وجئے ورگیہ کا تبصرہ تاریخ سے جہالت پر مبنی:

بی جے پی جنرل سکریٹری اپنی معلومات درست کرکے مسلم معاشرہ سے معافی مانگیں:راکیش سنگھ یادو
اندور03نومبر(طاہر صدیقی)بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ نے اپنے پیغام میں دیوالی کے تہوار پر نفرت کی من گھڑت تاریخ بتائی ہے۔آر ایس ایس کے اسکول میں ملک کی تاریخ نہیں پڑھائی جاتی ہے، اس لیے شاید وجئے ورگیہ ہندوستان کی تہذیب اور تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی سکریٹری راکیش سنگھ یادو نے بتاےا کہ اسلام کے تلوار کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہونے کا دعویٰ کرکے جھوٹ اور انتشار پھیلاتے ہوئے وجئے ورگیہ نے نفرت کے بیج بونے کی کوشش کی ہے۔ اس جھوٹے بیان کے ذریعے وجئے ورگیہ بنگال میں بی جے پی کی سیاسی ناکامی کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔مغربی بنگال میں شدید ناکامی کے بعدخود کو جانچنا چاہیے نہ کہ بوکھلانا چاہیے۔انہیں سوچنا چاہئے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے انہیں بی جے پی میں ہونے کے باوجود گزشتہ دس سالوں سے انتخابات میں کیوں نہیں اتارا؟اسلام کے تناظر میں تاریخ کی حقیقت پسندی کو وجے ورگیہ کو سمجھنا چاہیے، اس کے بعد کوئی تبصرہ کرنا چاہیے۔ہمارے ملک ہندوستان میں اسلام مسلمان بادشاہوں کے حملوں سے پہلے ہی جنوبی ایشیا میں آچکا تھا۔اسلامی اثر و رسوخ سب سے پہلے 7ویں صدی کے اوائل میں عرب تاجروں کی آمد کے ساتھ محسوس ہوا۔عرب اور برصغیر پاک و ہند کے درمیان تجارتی تعلقات زمانہ قدیم سے موجود ہیں۔اسلام سے پہلے کے دور میں بھی عرب تاجر مالابار کے علاقے میں تجارت کے لیے آتے تھے جس نے انہیں جنوب مشرقی ایشیا سے جوڑ دیا تھا۔مورخین ایلیٹ اور ڈاﺅسن کی کتاب کے مطابق مسلمان مسافروں کو لے جانے والا پہلا جہاز 630 عیسوی میں ہندوستانی ساحل پر دیکھا گیا تھا۔
پارا رالنسن نے اپنی کتاب: ہندوستان کی قدیم اور طبی تاریخ [44] میں دعویٰ کیا ہے کہ پہلے عرب مسلمان ساتویں صدی عیسوی کے آخر میں ہندوستانی ساحل پر آباد ہوئے۔شیخ زین الدین مخدوم “تحفة المجاہدین” ایک معتبر ذریعہ ہے۔[45] اس حقیقت کو جے ستروک ان ساو ¿تھ کینرا اور مدراس ڈسٹرکٹ مینوئلز [46] اور کلچرل ہیریٹیج آف انڈیا والیوم IV از ہری داس بھٹاچاریہ۔ میں بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے۔[47] اسلام کی آمد کے ساتھ ہی عرب دنیا کی ایک بڑی ثقافتی قوت بن گئے۔عرب تاجر نئے مذہب کے بردار بن گئے اور جہاں بھی گئے اس کی تبلیغ کی۔اب یہ بات واضح ہے کہ ہندوستان میں اسلام تلوار کے زور پر نہیں آیا۔بی جے پی کے جنرل سکریٹری کو اپنی معلومات درست کرکے مسلم سماج سے معافی مانگنی چاہئے۔دیوالی کے تہوار پر نفرت کا زہر اگلنا وجئے ورگیہ جیسے سینئر لیڈر کو زیب نہیں دیتا۔یہ بھی واضح ہے کہ ہندوستان میں پہلی مسجد رام ورما کل شیکھر کے حکم پر بنی تھی۔مغربی بنگال میں بی جے پی کی شکست کو اسلام کے سہارے جھوٹی کہانی بنا کر چھپانے کی کوشش نہ کریں۔