سو کروڑ ویکسین کا سچ!… اعظم شہاب

جب دو لوگ ہی مقابلے میں ہوں تو جیت کسی ایک کی ہی ہوگی۔ سو کروڑ ویکسین کا جشن مناتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ ابھی تک ہم چین سے نصف پر ہیں۔
بات صرف اتنی سی تھی کہ ملک میں ابھی تک سو کروڑ لوگوں کو کورونا کا ٹیکہ لگایا جاچکا ہے جس میں سے 51 فیصد لوگوں کو پہلی خوراک اور 21 فیصد لوگوں کو دونوں خوراک دی جاچکی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس موقع پر ان حاصل شدہ مارکس کو 100 میں تبدیل کرنے کی ازسرِ نومنصوبہ بندی کی جاتی، اس ضمن میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کی مزید بہتر حکمت عملی بنائی جاتی، لیکن اسے ایک حصولیابی قرار دے کر خود اپنے ہاتھوں اپنی پیٹھ تھپتھپائی گئی اور دھوم دھام سے سو کروڑ ویکسین دیئے جانے کا جشن منایا گیا۔ اس جشن میں لفظ ’مفت‘ کو خاص طور سے نمایاں کیا گیا، جبکہ ملک میں ابھی تک جتنے بھی ٹیکے لگے ہیں وہ تمام کے تمام مفت ہی ہوا کرتے ہیں۔ جشن کے دوران یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ وہ ممالک بھی ہمارے اس جشن کو دیکھیں گے جو اس سے قبل کورونا سے ہوئی اموات کو چھپانے کا ہم پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور جن میں ہمارے مخالف ممالک کے ساتھ کئی دوست ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ آبادی کے لحاظ سے ٹیکہ کاری کی ہماری یہ حصولیابی سپریم کورٹ میں دائر ہمارے اس حلف نامے کی پابندی سے ابھی بھی بہت دور ہے جس میں اس سال کے آخر تک ملک کی پوری بالغ آبادی کو ٹیکہ لگا دیئے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔