شاہ صاحب! یہ پوچھنے کا نہیں بتانے کا وقت ہے… اعظم شہاب

امت شاہ صاحب کو وہ کچھ بھی نظر نہیں آتا جس کا مظاہرہ عوام دن رات کر رہی ہے۔ انہیں اترپردیش میں کوئی باہوبلی نہیں دکھتا جبکہ ایک تو ان کے ساتھ اسٹیج پر ہی بیٹھا ہوا تھا۔
کمال کے ہیں ہمارے وزیر داخلہ امت شاہ صاحب۔ اترپردیش میں جب وہ دوربین کا سہارا لیتے ہیں تو اپنے قریب یا یوں کہیں بغل میں بھی نہیں دیکھ پاتے۔ اب یہی دیکھئے نا کہ ہفتہ بھر قبل جب وہ کشمیر گئے تو انہیں وہاں کہیں کوئی سورش نظر نہیں آئی اور گھاٹی کے تمام نوجوان انہیں ترقی، تعلیم وروزگار کی بات کرتے نظر آئے۔ اس سے وہ اتنے خوش ہوئے کہ اعلان فرما دیا کہ کشمیر میںدہشت گردی کم ہو ئی ہے اور کشمیر کی شانتی اور وکاس کی یاترا میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا۔ جبکہ ان کے کشمیر دورے کے دوران بھی کئی مقامات پر مڈبھیڑ کا سلسلہ جاری تھا اور شانتی کچھ ایسی تھی کہ موصوف کو اپنے قافلے میں 30 سے 35 گاڑیوں کو شامل کرنا پڑا تھا۔ خیر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے ختم کرنے کے بعد یہ ان کا کشمیر کا پہلا دورہ تھا اور یہ بھی اس لئے تھا کہ اب وہاں انتخاب کرائے جانے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سے پہلے اور تفصیلی دورے میں بھی وہ کشمیر کی اصل صورت حال دیکھنے سے قاصر رہے اور جو دیکھ سکے اس میں بھی ترقی، تعلیم و روزگار ہی تھا جو حالیہ دنوں کی سورشش کا اصل سبب بھی ہے۔