دہلی کی سرحدوں پر بیریکیڈ ہٹنے کے بعد بھی راستہ کھلنے پرشش وپنچ برقرار

نئی دہلی 30 اکتوبر: دہلی پولیس کے ذریعہ غازی پور اورٹکری بارڈر پر بیریکیڈ ہٹائے جانے کے بعد بھی راستہ کھلنے کے تعلق سے انتظامیہ اور کسان تنظیموں کے درمیان اتفاق نہیں ہوپایا ہے۔
کسان ایکتا منچ نے ٹویٹ کرکے کہا، ’’ٹکری بارڈر پر نصف شب کو پولیس کے ذریعہ راستہ کھلوانے سے متعلق بغیر بات چیت کے کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کسان متحد ہوکر فوراً پہنچ گئے۔ ابھی حالات نارمل ہیں۔ کسانوں نے رات میں ہی اپنے اسٹیج کامعمول شروع کردیا ہے۔ ہرروز ظلم کی ٹکر میں شنگھرش ہمارا نعرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ غازی پور سرحد پر بھی حالات معمول پر ہیں۔ سنیکت کسان مورچہ کے رضاکارسخت پہرہ دے رہے ہیں۔ کسان تحریک کے حامی اور خیر خواہ پراعتماد رہیں۔ کسانوں کا محاذ مضبوط ہے۔ حکومت کو رکاوٹیں ہٹانی پڑی ہیں۔ یہ کسانوں کی سچائی اور عدم تشدد کے اصول کی جیت ہے۔”
اس کے ساتھ ہی بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت نے بھی تحریک سے پیچھے نہ ہٹنے کا ارادہ ایک بار پھرظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی تین سیاہ قوانین کے خلاف اور کم ازکم سہارا قیمت ( ایم ایس پی) پر گارنٹی قانون کے تعلق سے ہے۔ جن کسانوں کی فصلیں کہیں فروخت نہیں ہو رہی ہیں وہ اپنی فصلیں بیچنے دہلی جائیں گے۔
انہوں نے ٹویٹ کرکے کہا، “کسان کھاد کی لائن میں مر رہا ہے۔ دن رات دھان فروخت کرنے کے لیے بھٹک رہا ہے، معاشی بدحالی سے پریشان کسان نوجوان خودکشی پر مجبورہورہا ہے! مودی جی نے کہا تھا کہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی۔