اقبال میدان میں متنازعہ قانونکیخلاف احتجاج نے انقلابی مشاعرے کی شکل کی اختیا

بھوپال:4دسمبر(پریس ریلیز)
ملک میں جب سے متنازعہ قانون سی اے اے اوراین آرسی پرعمل کرنے کی خبرآئی ،اس وقت سے اب تک احتجاجی مظاہروں کادورجاری ہے۔آج پورے ملک میںافراتفری کاماحول ہے،کہیں بیان بازی ،کہیں نعرے بازی توکہیں احتجاج،کہیں گرفتاری،کہیں لاٹھی چارج،نتیجہ یہ ہے کہ کئی ریاستوں میں کاروباری حالت مفلوج ہوتی جارہی ہے ،کتنے غریبوں کے گھروں میں روزی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں،چولہے میں آگ نہیںجل رہی ہے۔تاجروں محنت کشوں ،مزدوروں کے اندرتشویش ہے ،ڈرہے اورخوف میں لوگ مبتلاہیں کہ کہیں کسی جلوس میں کوئی شرپسندعناصر پتھرنہ پھینک دے،جس کی زد میں آکرانہیں مزید پریشانیوں کاسامناکرناپڑے۔فی الحال جتنی بھی ہنگامی صورتحال ہے وہ صرف اورصرف شہریت ترمیمی قانون کی وجہ سے ہے ،این آرسی اورسی اے اے کی وجہ سے ہے۔ایساقانون بنانے سے پہلے حکومت کویہ سوچنا چاہتے تھاکہ ہم کس سے شہریت کاثبوت مانگ رہے ہیں۔بہرحال ان احتجاجی مظاہروں نے روزافزوں اپنارخ تبدیل کیا ہے تاکہ پرامن طریقے سے پوری قوت کے ساتھ مظاہرہ کیاجائے ،تاکہ حکومت باشندگان وطن کی مجبوری کوسمجھے۔لیکن ایساکچھ بھی نظرنہیں آرہاہے ،جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہاہے۔اسی سلسلہ میں ایک کڑی مدھیہ پردیش کی راجدھانی کے اقبال میدان میں گزشتہ کئی دنوں سے احتجاج کاسلسلہ جاری وساری ہے۔جس میں ہرطبقے کے افراد شریک ہورہے ہیں اورحکومت کے تئیں اپنی ناراضگی کااظہارکررہے ہیں۔اسی تناظرمیں بروز سنیچرشام پانچ بجے متعلقہ احتجاج نے ایک مشاعرہ کی شکل اختیارکی۔جس میں شعراءنے انقلابی اشعار پڑھے اورحکومت وقت کوتنقیدکانشانہ بنایا۔اس مشاعرے میں عالمی شہرت یافتہ شاعر منظربھوپال،جلال میکش کے علاوہ کئی مشہورومعروف شعراءنے اپنے اشعارپڑھ کرمتعلقہ قانون اورمرکزی حکومت کی ہٹ دھرمی کےخلاف احتجاج درج کرایا۔

فوٹوکیپشنارتھی
راجدھانی بھوپال کے شاہجہانی پارک میں جاری معادہ لکچرار ریاستی وزیر کی ارتھی نکال کرمظاہرہ کرتے ہوئے۔

سی اے اے ،این آرسی اوراین پی آر کیخلاف جمعیة علماءضلع بھوپال کی سدبھاو ¿ناریلی آج
بھوپال:4دسمبر(پریس ریلیز)
راجدھانی بھوپال میں متنازعہ قانون کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہے۔اسی سلسلہ میں سی اے اے ،این آرسی اوراین پی آر کیخلاف جمعیة علماءضلع بھوپال کے زیراہتمام سدبھاو ¿ناریلی آج حافظ اسمعیل بیگ کی قیادت میںجمعیة علماءضلع بھوپال کے دفتر چندن نگربھانپور میں ایک میٹنگ منعقد کر ریلی نکالنے کی تجویز کومنظوری دی گئی۔میٹنگ میں ضلع جمعیة کے کارکنان کے ساتھ بھانپور واطراف کی مساجد کے ائمہ وذمہ داران بھی شریک ہونگے۔ اس میٹنگ میں متفقہ طورپرفیصلہ لیاگیا کہ 5جنوری بروز اتوار دوپہر2بجے سے مسجد عثمان کلیان نگر سے ایک احتجاجی سدبھاو ¿ناریلی نکالی جائے گی۔جس میں تمام مذاہب کے رہنماشریک ہونگے۔یہ ریلی جمعیة علماءکاضلع بھوپال دفترچندن نگربھانپورپراختتام پذیرہوگی۔یہ ریلی پوری طرح پرامن طورپرنکالی جائے گی،جس میں مہمان خصوصی جمعیة کے ریاستی صدر حاجی محمدہارون موجود رہیں گے۔تمام مفکرین ملت سے اس ریلی میں شریک ہونے کی اپیل کی جاتی ہے۔