برے رسم ورواج اور قانون کے درمیان الجھی نابالغ لڑکی

چتور گڑھ ، 25 اکتوبر: راجستھان کے ضلع چتور گڑھ میں بچہ شادی کے بعد اس کے والدین کےذریعہ اب ’ناطہ شادی‘ کرنے کی کوشش اورقانوناً اپنے شوہر کے پاس بھی جانے سرقاصر ایک نابالغ کامستقبل بری رسم اورقانون کے درمیان الجھ گیا ہے۔

سامنے آنے والے معاملے کے مطابق ، ضلع کے بھادسوڈا علاقے کے رہائشی اور اس وقت احمد آباد میں مزدور کی حیثیت سے کام کرنے والے بابولال تیلی نے اپنی بیٹی کی کم سنی میں شادی سال 2018 میں چندیریا کے رہنے والے رتن لال تیلی سے کی تھی، اس وقت لڑکی تقریباً 15 سال کی تھی جس کے بعد اسے سسرال بھیج دیا گیا۔
گزشتہ مئی میں دونوں خاندان ایک خاندانی پروگرام میں بھی شامل ہوئے لیکن اس کے بعد لڑکی کے والدین نے چندیریا تھانہ میں اس کے شوہر رتن لال اورساس سسر کے خلاف لڑکی کااغوا اورعصمت دری کامعاملہ درج کرادیا۔