پنجاب میں کشمیری طلبا کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر عمر عبداللہ ناراض

سری نگر،25 اکتوبر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پنجاب کے ایک کالج میں اتوار کی شام کشمیری طلبا کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے انہوں نے پنجاب کے وزیر داخلہ سے پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے بتادیں کہ اتوار کی شام ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹی ٹونٹی میچ کے بعد پنجاب کے ایک کالج میں زیر تعلیم کچھ کشمیری طلبا کو زد کوب کیا گیا۔
عمر عبداللہ نے اس واقعے کے رد عمل میں اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ گذشہ شب پنجاب کے ایک کالج میں کچھ کشمیری طلبا کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ میں چرن جیت چھنی (وزیر داخلہ پنجاب) سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ پنجاب پولیس کو اس معاملے کا نوٹس لینے کی ہدایت دیں اور پنجاب میں پڑھ رہے کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنائے‘۔
دریں اثنا جموں وکشمیر سٹو ڈنٹس ایسو سی ایشن کے ترجمان ناصر کھویہامی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہم نے یہ معاملہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی نوٹس میں لایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے ایک اعلیٰ پولیس افسرنے اس معاملے پر پنجاب پولیس کے سربراہ کے ساتھ بات کی ہے اور انہوں نے پنجاب میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کی ہے۔