گڑگاؤں میں پھر نمازیوں کو تشدد کاسامنا،’جے شری رام‘کا نعرہ،جانیں واقعات کی تفصیل

گروگرام(ایجنسی): گڑگاوں کے سیکٹر 12-A میں ایک ذاتی زمین پر پرامن طریقے سے نماز پڑھنے والے مسلمانوں کو ایک بھیڑ کا سامنا کرنا پڑا جومبینہ طور پربجرنگ دل کے کارکنان پر مشتمل تھا۔ ہجوم نے’جئے شری رام‘کے نعرے لگائے۔ اس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا ہے جب سیکٹر 47 میں ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب سرکاری زمین پر کھلے میں نماز پڑھنے والوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔
مقامی وکیل کلبھوشن بھاردواج بھی نماز کی مخالفت کرنے والوں میں شامل تھے،جنہوں نے پولیس والوں سے بحث کی۔ بی جے پی کے سابق رہنما بھاردواج نے جامعہ ملیہ شوٹر کی نمائندگی کی جسے گڑگاؤں پولیس نے فرقہ وارانہ تقریر کرنے پر گرفتار کیا۔ پولیس کی طرف سے یقین دہانی کے بعد بھیڑ منتشر ہوگئی۔

دونوں معاملات میں -سیکٹر 47 اور سیکٹر 12 -A ، نماز کے مقامات گڑگاؤں انتظامیہ کی جانب سے نشاندہی کی گئی 37 جگہوں کا حصہ ہیں جہاں مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ 2018میں اسی طرح کا ایک واقعہ سامنے آنے کے بعد ہندواورمسلمانوں کے درمیان بات چیت کے بعد یہ مقامات نماز کے لیے طے کیے گئے تھے۔
سیکٹر 47،جہاں گزشتہ چار ہفتوں سے احتجاج جاری ہے ، کے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ سماج دشمن عناصر یا روہنگیا پناہ گزین علاقے میں جرائم کے ارادے سے’نماز‘پڑھتے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے گزشتہ ہفتے اے سی پی امن یادو کو بتایا تھا کہ اس معاملے میں مکینوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی حل نہیں ملا ہے۔