سوشانت سنگھ کے سابق اسسٹنٹ کا حیران کرنے والا بیان آیا سامنے، کہا ’یہ خودکشی نہیں‘

سوشانت سنگھ کی موت کے اسباب سے پردہ اٹھانے کی کوششیں لگاتار جاری ہیں۔ اس درمیان سوشانت کے سابق اسسٹنٹ انکت آچاریہ نے ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جو ان کی موت کو خودکشی نہیں بلکہ قتل ظاہر کرتا ہے۔ انکت کا کہنا ہے کہ “بھیا (سوشانت) خودکشی نہیں کر سکتے، یہ ایک قتل ہے۔” اپنے اس دعویٰ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے انکت نے کئی باتیں بھی سامنے رکھی ہیں۔

‘پنک وِلا’ کی ایک رپورٹ کے مطابق انکت کا کہنا ہے کہ وہ سوشانت کو اچھی طرح سے جانتا تھا، اور اسے یقین نہیں ہو رہا کہ یہ خودکشی کا کیس ہے، یہ یقیناً قتل کا معاملہ ہے۔ انکت بات چیت کے دوران کہتا ہے کہ “اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ سوشانت بھیا نے خودکشی کی ہے تو جب کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے گلے پر نشان U کی طرح ہوتا ہے، لیکن جب کوئی آپ کا گلا دباتا ہے تب O کی طرح نشان ہوتا ہے۔ سوشانت بھیا کے کیس میں O کی طرح نشان گلے میں تھا۔ اس کے علاوہ جب کوئی خودکشی کرتا ہے تو ان کی آنکھ اور زبان باہر آ جاتی ہے، لیکن سوشانت بھیا کے کیس میں ایسا نہیں ہوا۔ یہ تو قتل ہی ہے۔”

اس سے زیادہ حیران کرنے والی بات انکت نے یہ بتائی کہ سوشانت کا قتل فج کے لیے استعمال ہونے والے بیلٹ سے کیا گیا ہوگا۔ دراصل فج سوشانت کے کتے کا نام ہے اور انکت کا کہنا ہے کہ “میں آپ کو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ ان (سوشانت) کے گلے میں کس چیز کا نشان تھا۔ وہ نشان سوشانت بھیا کے پالتو کتے فج کی بیلٹ کا ہے۔ میرے پاس بھیا کی باڈی کی تصویریں ہیں اور مجھے ایسا ہی لگتا ہے کہ گنہگاروں نے اسی بیلٹ سے سوشانت بھیا کا گلا گھونٹا ہے۔”

اپنی بات چیت کے دوران انکت آچاریہ نے سوشانت سنگھ کیس کی غیر جانبدارانہ جانچ کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ قصورواروں کو موت کی سزا دی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ “سی بی آئی کو کیس ٹرانسفر ہونے سے میں بہت خوش ہوں۔ میں پوری جانچ چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ سوشانت سر کو انصاف ملے۔ میں چاہتا ہوں کہ قصورواروں کو پھانسی تک کی سزا ہو۔”