بہار: نتیش راج میں سیلاب متاثرین ’پلیٹ فارم‘ پر زندگی گزارنے کو مجبور

بہار میں سیلاب کی صورت حال لگاتار سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ لاکھوں لوگ بے حال ہیں اور بوڑھی گنڈک کا پشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے تو گوپال گنج علاقہ میں حالات انتہائی تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔ گوپال گنج ضلع کے برولی بلاک واقع دیو پور گاؤں باشندہ مکیش کمار کا کچا مکان گنڈک ندی کی تیز دھار میں بہہ گیا۔ ان کے رہنے کے لیے اب گھر نہیں ہے۔ مجبوراً وہ رتن سرائے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس سال کچے مکان کی تو چھوڑیئے، پرانے پختہ مکانات بھی گنڈک ندی کا بہاؤ برداشت نہیں کر سکے۔
تھانہ روڈ باشندہ منوج گری کے مکان کا ایک حصہ بھی گر پڑا ہے۔ منوج اب جہاں تہاں پناہ کی تلاش میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جن کے گھر یا تو سیلاب کے پانی میں منہدم ہو گئے ہیں یا پوری طرح غرق ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ سرکاری عمارتوں یا پھر ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔
برولی بلاک کے پیارے پور، سسئی، نوادہ، دیوا پور سمیت کئی گاؤں سیلاب کے پانی میں غرق ہو گئے ہیں۔ کئی سیلاب متاثرین کو سیلاب اور بارش کے دوران ٹوٹے اور متاثر ہوئے گھروں کو اب پھر کھڑا کرنے کی فکر ہے تو کئی متاثرین کو گھر پہنچ کر گرہستی بسانے کی فکر ہے۔ سیلاب سے گھرے گاؤں اور متاثرہ لوگوں کے سامنے سنگین بحران کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔
پلیٹ فارم پر زندگی گزار رہے سیلاب متاثرین کو رفع حاجت اور پینے کے پانی کا مسئلہ تو ہے ہی، انھیں بھر پیٹ کھانا بھی نصیب نہیں ہو رہا ہے۔ برولی بلاک کے سسئی گاؤں کے رہنے والے شیوجی ٹھاکر کہتے ہیں کہ “سیلاب سے پورا گاؤں برباد ہو گیا، اب تک کہیں سے کچھ راحت نہیں ملی ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ “ہم لوگ پلیٹ فارم پر فیملی کے ساتھ پناہ لیے ہوئے ہیں، لیکن یہاں بیت الخلاء کا انتظام نہیں۔ پینے کے پانی کا بھی مسئلہ ہے۔ کمیونٹی کچن چلایا جا رہا ہے لیکن وہ ناکافی ہے۔”
گاؤں چھوڑ کر مہاجر کی زندگی گزار رہی سیلاب متاثرہ سنیتا دیوی اور آشا دیوی کہتی ہیں کہ “سیلاب کے پانی میں سب کچھ برباد ہو گیا ہے۔ گھر میں کچھ نہیں بچا ہے۔ بے گھر ہو کر 25 جولائی سے پشتہ پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بچوں کے لیے کھانا بنانے کے بعد ہم مویشی کے لیے چارہ کا انتظام کرنے لگ جاتے ہیں۔ چاروں طرف تباہی ہے۔ گاؤں پوری طرح ڈوب چکا ہے۔ سب کچھ برباد ہو چکا ہے۔ اب آگے کی زندگی کیسے گزرے گی، بھگوان ہی جانے۔”
سیلاب متاثرین کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ انھوں نے خود ترپال ٹانگ کر جھونپڑی بنائی ہے۔ انھیں انتظامیہ کی جانب سے ترپال تک دستیاب نہیں کرایا گیا ہے۔ اِدھر کورونا وبا کے سبب سیلاب متاثرین کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ حالانکہ سیلاب کی خطرناکی کے سبب وہ کورونا کے خوف سے آزاد نظر آ رہے ہیں۔ جگہ جگہ سوشل ڈسٹنسنگ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ گوپال گنج ڈیزاسٹر محکمہ کے انچارج شمس جاوید کا کہنا ہے کہ حکومت سے پالی تھین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے کمیونٹی کچن کھولے گئے ہیں اور ساتھ ہی کورونا جانچ کے لیے 136 لوگوں کے نمونے بھی لیے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ بہار کے 16 اضلاع میں تقریباً 63 لاکھ کی آبادی سیلاب سے متاثر ہے، لیکن گوپال گنج ضلع کے پانچ بلاکوں، 61 پنچایتوں کی دو لاکھ سے زیادہ کی آبادی اس سیلاب کی وجہ سے پریشان حال ہے۔ اس ضلع میں 11 راحتی کیمپ چل رہے ہیں اور 253 کمیونٹی کچن بھی کھل چکے ہیں۔