واجب قربانی کے بجائے روپیہ صدقہ کرنے کاگمراہ کن خیال


مفتی محمد اشرف قاسمی
مہدپور، اجین، ایم پی۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلۂ ذیل کے بارے میں کہ:
اگرکوئی شخص موجودہ حالات میں پوری کوشش کے باوجود قربانی نہ کر سکے
تو 12؍ ذی الحجہ1441ھ کے بعد کیا اسے بکرا ،بھیڑ، دنبہ اورمینڈھا میں سے کوئی ایک خرید کر صدقہ کرنا پڑے گا یا اس کی قیمت صدقہ کرنا کافی ہوگا؟
نیزجو لوگ حصہ لے کر قربانی کرواتے ہیں تاکہ واجب قربانی ادا ہوجائے، ذمہ دارانِ تنظیم کی پوری کوشش کے باوجودخدا نخواستہ قربانی نہیں ہو سکی تو کیاحصے کے بقدر رقم صدقہ کرنا کافی ہوگا؟اگرحصے کی رقم صدقہ کرنا کافی نہیں ہوگا تو اس کی وجہ کیا ہے؟
بینواو توجروا ۔ والسلام
المستفتی: محمد احسان
فاؤنٹین ڈیولپرس،میراروڈ، ضلع تھانہ،مہاراشٹرا، انڈیا۔

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما امابعد۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
قربانی ایک منصوص خدائی حکم ہے۔ منصوص احکام کسی حکمت کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں قربانی کا حکم فرمایاہے :
“فصل لربک وانحر” (سورہ کوثر،آیت نمبر2)
حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ کے نزدیک عید الاضحیٰ کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی دوسرا عمل محبوب نہیں ہے۔ (ترمذی،رقم الحدیث1498)
دوسری روایت میں ہے کہ: اگر کوئی [مسلمان] شخص وُسعت کے باوجود قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔(ابن ماجۃ،رقم الحدیث، 3123)
ان نُصُوص سے معلوم ہوا کہ جس پر قربانی واجب ہے، اس کے لیے ایامِ قربانی میں قربانی کے بجائے قربانی کے روپیوں کو فقراپر صدقہ خیرات کرنے کاخیال کرنے والے کا ایمان خراب ہو سکتا ہے۔
اس وقت مختلف طریقوں سے تحریفِ دین کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اسی نامسعود کوشش کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پرجانور کی قربانی کے بجائے ان کی قیمت سے فقرا کی مدد کی جائے۔ یہ خیال انتہائی درجہ گمراہ کُن اور شریعت میں تحریف کی بد ترین سوچ ہے۔ یہ خیال اور تصور عمومًا وہ لوگ پیش کرتے ہیں جو مختلف نمائشی تقریبات میں فضول خرچی کو ترقی اور عمدہ تہذیب سمجھتے ، مہنگی گاڑیوں، بے ضرورت قیمتی سوٹ بوٹ پر روپیے پھونکنے کو باعثِ فخرگردانتے ہیں۔
جب کہ قربانی کے ذریعہ کئی جہتوں سے معاشرے کے حاجتمندوں کی مدد ہوتی ہے۔مثلا جو لوگ جانور پالتے ہیں، قربانی کے موقع پر قربانی کے لیے انہیں ان کے جانوروں کی مناسب قیمت مل جاتی ہے، جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر تے ہیں۔
دوسری طرف معاشرے میں جو افراد غربت و افلاس کی وجہ سے مہینوں گوشت سے محروم رہتے ہیں،عید الاضحی کے موقع پر ان میں سے اکثریت کو بافراغت گوشت مل جاتا ہے۔ اگرقربانی نہ کی جائےتو ان کے یہاں مفت میں گوشت پہونچانے کا قربانی کے متوازی کوئی متبادل نظام نہیں پیش کیا سکتا ہے۔
چوں کہ لاک ڈاؤن کے موقع پر ہرطرف معاشی مشکلات پیش آ رہی ہیں، ان مشکل حالات میں سادہ لوح مسلمانوں کو قربانی کے بجائے صدقہ خیرات کی تلقین کر کے انہیں جادۂ حق سے منحرف کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اس لیے اس تعلق سے ضروری خیال کر کے سطور بالا میں مسلمانوں کو متنبہ کرنے کی سعی کی گئی ہے کہ مسلمان کے نزدیک نصوصِ شریعت کے مقابلے میں کسی فلاسفی کی ڈیڑھ عقل کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
جہاں تک نفس مسئلہ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں حکم یہ ہے کہ قربانی کے لیے جانور کی خریداری ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر قربانی کے لیے جانور کی خریداری ہوگئی ہے۔ اور قربانی کے دنوں میں کسی مجبوری کی وجہ سے ان کی قربانی نہیں ہوسکی ہے، تو اس کی تین صورتیں ہیں:
1. اگر قربانی کی نیت سے جانور کی خریداری کرنے والا غیر صاحبِ نصاب ہے تو اس پر اس جانور کو زندہ ہی صدقہ کرنا واجب ہے۔
2. اگر صاحبِ نصاب ہے تو اسے اختیار ہے کہ چاہے تو اس جانور کو صدقہ کردے، یاچاہے تو اس کی قیمت صدقہ کردے۔(مختارات النوازل: ج 3ص210،رقم المسئلة 459.ایفا)

3. اگر بڑے جانورمیں امیر و فقیر دونوں شامل ہیں تو فقیر پرعین صدقہ کرنا واجب ہے، اپنے حصے کی قیمت اس کے لیے جائز نہیں ہے۔
*اسی کے ساتھ اگر امیر شخص “عین” {قربانی کے لئے خریدا گیا جانور} صدقہ کر دے تو ٹھیک ہے؛ لیکن اگرامیر “عین” جانورصدقہ نہ کرے تو اس جانور کی مجموعی قیمت میں فقیر کے حصۂ قیمت کو صدقہ کر کے مالک بن جائے۔ پورے جانورپر ملکیتِ تام حاصل ہوجانے کے بعد امیر پر اپنے سہام کی قیمت کو بھی صدقہ کرناواجب ہے۔
*اوراگرجانور کی خریداری نہیں ہوئی ہے۔ تو پھرامیر (یعنی صاحبِ نصاب جس پر قربانی واجب ہے، اس) پر کسی ایک چھوٹے (جانور بکری، بھیڑ ، دنبہ)کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔(الرد المحتار:ج 9ص، 465،کتاب الاضحیۃ،زکریا۔)

اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ:
*عید الاضحی کے ایام گذر جانے کے بعد صاحبِ نصاب کے لئے بکری بھیڑ وغیرہ خرید کر صدقہ کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ ان کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔ مشترکہ قربانی میں حصے کی رقم وکیل یا تنظیم کو دینے کے بعد متعین ہوجاتی ہے؛ اس لیے قربانی نہ کرسکنے کی صورت میں ایام گذرجانے کے بعد اپنے حصے کی رقم صدقہ کرنا کافی ہوگا۔*
ایک اہم بات یہ بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اداروں یا تنظیموں کی طرف سے جب بڑی تعداد میں جانوروں کی خریداری کی جاتی ہے، تو کچھ جانور متعینہ تقریبی قیمت سے بھی گراں ملتے ہیں، اوراکثرجانور متعینہ تقریبی قیمت سے کم میں ملتے ہیں، عام لوگ خریداری کی قیمت کو شرکا کے درمیان تقسیم کر کے فی حصہ کی رقم متعین کر دیتے ہیں، جب کہ بعد میں جانور کی دیکھ بھال، خوراک وغیرہ کا نظم الگ سے ہوتا ہے؛ اس لیے جانور کی خوراک، دیکھ بھال، نقل وحمل (Transportation) کے اخراجات کو جوڑ کر ادارے مجموعی رقم وصول کرتے ہیں۔ بریں بنا حصوں کی ایک مقدار رقم بتا کر اجتماعی قربانی کا نظم کرنے والی تنظیم یا ادارے نے جتنی مقدار میں روپیہ لیا ہے، اداروں و تنظیموں کے لیے وہ مجموعی رقم یہاں مراد نہیں ہے؛ لہذا اگر ادارے پوری کوشش کے باوجود قربانی نہ کرسکیں تو مزدوری،جانور کی خوراک وغیرہ کے لیے جو مزید رقم ہر سہام کےساتھ پہلے سے جوڑ رکھی تھی اس کو گھٹانے کے بعد سہام (حصوں) کی اصل رقوم کو صدقہ کرنا اداروں کے ذمہ لازم ہوگا۔ فقط
واللہ اعلم بالصواب