آیا صوفیا، اردوغان اور درپیش خدشات و اندیشے


از قلم: مشتاق نوری

ترکی کا محل وقوع یورپ اور ایشیا کے درمیان ہونے کے سبب شروع سے اس کی اہمیت رہی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ایک لمبے عرصے سے ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش جاری ہے۔سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد مصطفی کمال پاشا نے اتحادی افواج کے جبر و تشدد سے ترکی کو آزادی دلا کر، اور اسلام مخالف اصلاحات کرکے “اتاترک” ( یعنی ترکوں کا باپ، جیسے کہ گاندھی راشٹر پتا) تک کا سفر طے کیا۔اتاترکی دور بالکل سیکولر اور اسلام مخالف دور رہا ہے۔اتاترک کا طلسم ترک فوج اور عوام پر کس قدر سر چڑھ کر بول رہا تھا کہ ترکی میں اسلام کی حمایت میں بولنا بھی جرم قرار دے دیا گیا تھا۔جب ۲۰۰۲ میں اردوگان کی پارٹی فتحیاب ہوئی تو انہیں صرف اس لئے وزارت عظمی کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا کہ انہون نے ۱۹۹۸ میں اسلامی روایات کی حمایت میں تقریر کی تھی۔
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے ترکی فوج لادینیت ،جمہوریت اور اتاترک کے اصلاحات کا محافظ رہی ہے۔یہی سبب ہے کہ ۱۹۶۰ میں جب عدنان مندریس نے صدر بن کر اسلام پر عائد پابندی ہٹانے کی کوشش کی تو فوجی بغاوت کے ذریعے ان کو مع دوستوں کے دار پر چڑھا دیا گیا۔۱۹۷۱ میں جب اسلام پسند دینی لیڈر نجم الدین اربکان نے عدنان مندریس جیسی غلطی کی تو انہیں بھی فوجی بغاوت جھیلنی پڑی اور تاحیات انتخاب پر پابندی لگا دی گئی۔ایسا ہی کچھ ۱۵؍جولائی ۲۰۱۶ کو ہوا جب فتح اللہ گولن کے حامی فوج کے کمانڈرز نے ترکی کے دو بڑے شہروں( انقرہ اور استنبول) پر قبضہ کر کے ایردوگان حکومت کا تختہ پلٹنے کی ناکام کوشش کی۔
اگر آپ اوپر کی چند سطور پر غور کریں گے تو پائیں گے کہ اب بھی فوج اور عوام کا ایک طبقہ اتاترکی نظریات و اصلاحات کا دفاعی ہے۔ایسے میں طیب اردگان کے لئے ملک چلانا اتنا آسان نہیں ہے۔اور الزام یہ بھی ہے کہ جلاوطن فتح اللہ گولن امریکہ میں بیٹھ کر خارجی طاقتوں کے ساتھ ساز باز کرکے ایردوگان کے خلاف مورچہ بندی کر رہے ہیں۔
ایسے میں صدام حسین اور معمر قذافی کی طرح اگر طیب ایردوگان بھی خدا ناخواستہ یورپ و مغرب کی سازشی شورش و یورش کا شکار ہو جاۓ تو اسے آپ ان کا مقدر نہیں کہ سکتے۔اور نہ یہ کہ کر نکل سکتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو اپنا دشمن بنا لیا تھا اسی لئے یہ دن دیکھنا پڑا۔

نہیں! بلکہ ان کی شکست و ریخت ہمارے ملی، قومی و عالمی رہنماؤں کی منافقت اور مداہنت کا برا نتیجہ ہوگی۔اس سے پہلے بھی ایردوگان کے خلاف بغاوت کرائی جاچکی ہے یہ تو کہئے کہ ترک قوم نے بروقت مورچہ سنبھال لیا تھا ورنہ دشمن کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئے۔اب جب کہ آیا صوفیا میں سلطان محمد فاتح کی تلوات کے ساتھ امام نے خطبہ پرھا ہے تو یہ اسلامی اقبال کا عثمانی منظر پورے صلیبی برادری کے سینے پہ سانپ لوٹنے کے مترداف ہے۔

قلق اس کا ہے کہ کل جب امریکہ اپنے اتحادی لاؤ لشکر سمیت صدام پہ ٹوٹ پڑا تھا تب بھی مسلم ممالک صرف تماش بین کی پوزیشن میں کھڑے تھے۔بلکہ کافی ملکوں نے نہ صرف امریکہ کی ہاں میں ہاں ملایا بلکہ اسے ممکن بھر مدد بھی پہنچائی تھی۔مسلمانوں کی عالمی سربراہی تنظیمیں خوف زدہ تھیں کہ کہیں ہمارا نمبر نہ آجاۓ۔خاص کر سعودیہ نے جو کردار نبھایا تھا وہ بہت ہی گھنونا تھا۔قذافی حکومت کو تہ و بالا کرنے کے لئے اندرونی معاملات کو کیسے ہوا دی گئی، کس طرح لیبیا میں قذافی مخالف شورش برپا کرائی گئی،کس طرح یورپ نے لیبیا میں آگ لگانے کا کام کیا یہ دنیا دیکھ چکی ہے۔میں نہیں کہتا کہ صدام میں اور قذافی میں برائیاں نہیں تھیں۔ان دونوں میں بھی کافی خرابیاں تھیں۔بہت سی جگہوں پہ ان سے بھی چوک ہوئیں۔کچھ جگہوں پہ ان کا جوش ٹھیک نہیں تھا۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ ۲۰؍ویں ۲۱؍ویں صدی میں کون دودھ کا دھلا ہے؟ کیا بشار الاسد خالص مومن اور ہوش و حواس والا نیتا ہے؟ پرویز مشرف کونسا پیور آدمی تھا؟

آیا صوفیا کو مسجد بحال کئے جانے کے بعد یقینی طور پر ایردوگان عیسائی دنیا کی آنکھ میں کھٹکنے لگا ہوگا۔اور شاطر و عیار کلیسا و صلیبی سوسائٹی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ جائیں گے بلکہ وہ سازش کے جال بننے میں لگے ہوں گے یا پھر مناسب موقعے کی تلاش ہوگی۔ورنہ ترکی کی طرف سے لگایا گیا یہ گہرا زخم اتنی آسانی سے وہ ہضم نہیں کر سکتے۔اب اگر عیسائی اور یہودی دنیا مل کر ترکی پہ ہلہ بول دے تو پوری ملت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ترکی اور ایردوگان کے ساتھ کھڑی ہو۔اگر اسے پھر تنہا چھوڑ دیا گیا تو پچھلی کہانی ری پلے کی جاۓ گی۔وہی کہانی جو ڈسکوری اور wild life جیسے چینلس پہ آپ بیٹھ کر دیکھتے ہیں جس میں درجن بھر جنگلی کتے یا لکڑ بگھے مل کر شیر پر حملہ آور ہوتے ہیں اور شیر یا تو جان بچا کر بھاگتا ہے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

اس عالمی ڈپلومیٹک شہ مات کے کھیل میں ایک بات سے دل کو کافی تسلی ہے کہ ہم نے درجنوں مسلم ملکوں کے صدور و سربراہان کو دیکھا ہے۔آۓ دن ان کے بارے اخبار و سوشل میڈیا پر کچھ نہ کچھ منفی خبریں چلتی رہتی ہیں۔یہاں تک کہ ہم نے سعودی جو خالص اسلامی اسٹیٹ ہے جہاں ہمارا کعبہ ہے جہاں اسلام کے پیغمبر آرام فرما ہیں ایسے ملک کے کچھ رہنماؤں کو ہم نے اغیار کی عریاں پارٹیوں میں جام چھلکاتے دیکھا ہے۔ہم نے طوائفوں پر ریال لٹاتے دیکھا ہے۔اب اگر کوئی دین پسند لیڈر مصطفی کمال پاشا جیسے لبرل، سیکولر، مغرب پرست کی بستی میں پیدا ہوجاۓ تو یہ ملت کے لئے نہ صرف نیک فال ہے بلکہ سعودین عیاشوں سے ہزار غنیمت بھی ہے۔

ایک بات یہ نوٹ کرنے لائق ہے کہ ہمیشہ جوش اور عجلت میں لئے گئے فیصلے غلط نہیں ہوتے۔بلکہ کبھی جوش اور عجلت میں اسٹینڈ لینا ضروری ہوجاتا ہے۔ہمیں جبل الطارق(جبرالٹر) پر طارق بن زیادہ کا وہ جوشیلہ خطبہ یاد آتا ہے جب ان کی ۱۲؍ ہزار کی فوج صلیبیوں کی ڈیڑھ لاکھ فوج سے پسپا ہورہی تھی۔مجھے طارق کا جوش میں لیا گیا وہ فیصلہ یاد آتا ہے جب انہوں نے اندلس کی زمین پر اترتے ہی کشتیاں نذر آتش کروا دی تھیں۔اگر کم نصیبی سے طارق ہار جاتا تو مورخین اور تجزیہ نگار یہی کہتے کہ کشتیاں جلانا طارق کی سب سے بڑی حماقت تھی۔طارق کو ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی لے ڈوبی۔اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کم از کم زخم کھاتے سپاہیوں کو فرار ہو کر جان بچانے کا موقعہ تو مل جاتا۔مگر شاید کسی مورخ کی نظر یہ نہیں دیکھ پا رہی تھی کہ جوش اور جنون میں اٹھی یہ مٹھی بھر فوج ایک بڑی فوج کو دھول چٹا جاۓ گی۔تھوڑے وقفے میں ناکوں چنے چبوا دے گی۔

۲۱؍ ویں صدی میں ایردوگان نے جوش میں ہی سہی، اگر نیک فیصلہ لیا ہے تو ہمیں اس کا استقبال کرنا چاہئے۔ان کے کاندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہئے۔ورنہ ایسا نہیں کہ ترکی کی پچھلی ۸۵؍ سالہ تاریخ میں کوئی مرد حر نہیں آیا۔ بہت آۓ لیکن ہوش و حواس اتنا غالب تھا کہ کبھی آیا صوفیا کا خیال ہی نہیں آیا۔ایردوگان کی قیادت میں ترکی پھر سے سیکولرازم سے اسلام کی طرف واپسی کر رہا ہے۔بالفاظ دیگر ترکی کمال پاشا کے طلسم سے نکل کر عثمانی حدود میں داخل ہورہا ہے۔اب اگر دین پسند رجب طیب اردوگان کے جوشیلے تیور سے جامع قرطبہ اور مسجد اقصی کی بازیابی کا خیال آپ کے دل میں آۓ تو کوئی برائی نہیں ہے۔

اور یہ بھی کیا عجب ہے کہ دوسرے کی تباہی کا تماشا دیکھ کر خاموش رہنے کو ہم نے ہوش کا نام دے رکھا یے۔ہم نے بزدلی کو ہوش مندی سمجھ لیا ہے۔دینی حمیت و غیرت کو تھپکیاں دے کر سلا دینے کو عقلمندی کا نام دے رکھا ہے۔سقوط خلافت عثمانیہ کے وقت بھی ہم خاموش تھے۔جب کمال پاشا ترکی میں اسلامی شعائر مٹا رہا تھا ہم داخلی معاملہ بتا کر خاموش رہے۔ہمارے رہنمایان تب بھی چپ تھے جب فلسطینیوں کے حقوق کے لئے لڑنے والا بوڑھے یاسر عرفات نظر بندی میں موت کو گلے لگا لئے۔ہم تو تب بھی چپ تھے جب محمود احمدی نژاد کو کرسی سے اتارنے کے لئے ڈپلومیٹک چال چلی گئی۔ہم تب بھی چپ تھے جب گوانتانا موبے اور ابو غریب جیلوں میں مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا رہا۔ہم تب بھی چپ تھے جب طالبان اور انتہا پسندی کا بہانہ بنا کر افغانیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ہم کسی کے دکھ درد میں ساتھ نہیں آتے، صرف بت کی طرح خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اور پھر دعا کرتے ہیں کہ مولی کوئی صلاح الدین ایوبی بھیج دے! ایسی دعا رب کو ہرگز مطلوب نہیں۔