این آرسی،این پی آر اورسی اے اے کیخلاف جمعیة نے شروع کی دستخطی مہم

بھوپال:4دسمبر(پریس ریلیز)
جمعیت علماءمدھیہ پردیش کی این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف گھر گھر دستخطی مہم 4 دسمبر کو بھوپال کے تاریخی اقبال میدان سے شروع ہوئی ، جمعیت علماءمدھیہ پردیش ، بھوپال کے پریس سکریٹری حاجی محمد عمران ہارون کی سربراہی میں ، جمعیت علماءنے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کرپاس کرائے گئے قانون کے خلاف ملک کی عوام سے دستخطی مہم کا آغاز اقبال میدان سے کیاہے،اس کے تحت گھر گھر پہنچ کراین آر سی ، سی اے اے کےخلاف احتجاج میںتمام طبقات نے اتفاق کیا ۔ جمعیت علماءکی دستخطی مہم پر دستخط ہوئے ،واضح رہے کہ کچھ اہلکاروں نے خاموشی سے اس کام کوشروع کیا تھا جس میں سی اے اے ، این پی آر ، این سی آر کے خلاف ہر مذہب کے ہر طبقے نے حمایت کی تھی اور ملک کے مفاد میں دستخط کیے گئے تھے۔ اس پر دستخط ہونے کے بعد ، اسے ہندوستان کے صدرجمہوریہ اور سپریم کورٹ کے جج کے پاس کاپی میمورنڈم کی شکل میں بھیجا جائے گا۔ تاکہ حکومت ہند عام لوگوں کے تعاون سے اس کالے قانون کو واپس لے سکے۔اس موقع پر حاجی محمد عمران نے کہا کہ ہندوستان میں حکومتیں عام لوگوں کے ووٹ ڈالنے سے بنتی ہیں اور اگر اقتدار میں حکومت پر ضروریہے کہ وہ ہندوستانی عوام کے جذبات کا خیال رکھے ، اس وقت کروڑوں ہندوستانی اس کالے قانون کے خلاف احتجاج میں سڑکوں پر ہیں اور ان کی رائے ہے کہ اس کالے قانون کو واپس لیا جائے جاو ¿ اور 135 کروڑ ہندوستانیوں کے جذبات کا خیال رکھناحکومت کی ذمہ داری ہے۔ دستخطی مہم جمعیت علماءمدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون ، جمعیت علماءمدھیہ پردیش اہم رکن ، جس میں محمد کلیم ایڈووکیٹ ، حافظ اسماعیل بیگ ، مجاہد کی رہنمائی میں شروع کی گئی ہے۔ محمد خان ، مفتی محمد رفیع ، محمد یاسر ، حنیف ایوبی ، مولانا سیف الرحمن آغا ، وغیرہ شام یہ دستخطی مہم کی تکمیل تک گھر گھر دستخط کےلئے پہنچ کرکیا جائے گا ، جو بروز سنیچردوپہر 2 بجے سے اقبال میدان سے نکلا ، جہاں دستخطی مہم شروع کئے گئے تھے اور دیگر جمعیت کے عہدیداروں کو دستخط کے لئے فارم فراہم کیے گئے تھے جو اپنے علاقوں میں اس مہم کو جاری رکھیں گے۔ وہیں آئندہ اتوار کو تمام مذاہب پرامن مارچ کا بھی انعقاد کیا جائے گا جو بھانپور سے دوپہر دو بجے سے شروع ہوگا۔ اس کالے قانون کے خلاف جدوجہد میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یا ملک کے نوجوانوں کو حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے تحریک پیش کرنے والے شہید نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ اس مارچ کو جمعیت علماءضلع بھوپال یونٹ کے بینر تلے منعقد کیا جائے گا۔تمام طبقات متحدہوکر اس متنازعہ قانون کے خلاف آواز بلندکریں،تاکہ ملک کی سالمیت برقراررہے اوردستورہندمحفوظ رہے۔

وقف جائداد پرقبضہ جمانے میںمصروف میونسپل کارپوریشن کے افسران
وقف اراضی کو سرکاری بنانے کی کوشش میں جھوٹے حلف نامہ داخل کرعدالت کوگمراہ کرنے کی کوشش
بھوپال :4دسمبر(پریس ریلیز)
راجدھانی کے مصروف ترین شاہراہ پر واقع وقف قبرستان پر قبضہ کرنے میں مصروف میونسپل کارپوریشن نے اب جھوٹ کا سہارا لینا شروع کردیا ہے۔ اپنی ناکام کوشش میں وہ جھوٹے حلف نامے دے کر عدالت کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ کارپوریشن کے ایک افسر نے سرکاری دستاویزات میں کارروائی کو نظرانداز کرتے ہوئے عدالت سے لاعلمی کااظہار ہے۔ اس معاملے پر ہنگامہ نے اس افسر کو توہین عدالت اور قانونی کارروائی کے حالات پیداکردیا ہے۔
معلومات کے مطابق ، مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے تلیاواقع حمیدیہ روڈپرتقریبا ً6 ایکڑ اراضی کوسرکاری بتاکر میونسپل کارپوریشن نے اپنی جائیداد قرار دیا ہے۔ جبکہ خسرہ نمبر 449 ، 450 پریہ زمین نوبہارسبزی منڈی واقع ہے اور اس کا سارا ریکارڈ وقف بورڈ میں درج ہے۔ اس کے باوجود ، میونسپل کارپوریشن گذشتہ چالیس سالوں سے اس منڈی سے تہ بازاری وصول کرتارہا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی وہ یہاں بنائی جانے والی کمیٹیوں کے عہدیداروں کے خلاف بھی جھوٹی شکایات اور عدالتی لڑائی لڑ رہی ہے۔ دریں اثنا ، وقف مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے وقف ایجنسی میں مقدمہ درج کیا گیا۔ جس کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن نہ تو عدالتی کارروائی تک پہنچی ہے اور نہ ہی جائیداد کے حق سے متعلق کوئی دستاویز پیش کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے ، وقف ایجنسی نے اس کیس کو مسترد کرتے ہوئے انتظامی کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کو درست قرار دیا ہے۔
کارپوریشن جھوٹ کے سہارے:
وقف ایجنسی کے ذریعہ اس کیس کو مسترد کرنے کے بعد ، کارپوریشن کو اپنے زونل آفیسر اودھ نارائن مکوریا کی طرف سے جھوٹ کا سہارا لے کر ایک جھوٹا حلف نامہ دلوایا ہے۔ مکوریہ نے عدالت میں پیش کردہ حلف نامے میں کہا کہ انہیں 30 اکتوبر 2019 کو آفس انچارج کے عہدے پر مقرر کیا گیا ہے اور اس سے قبل انہیں اس کیس سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے۔ اس کیس کی معلومات دستیاب ریکارڈوں سے حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مقررہ مدت کے اندر عدالت میں جواب پیش نہ کرنے کی وجہ ان کی عدم موجودگی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کارپوریشن کا یہ عہدہ اس عرصے کے دوران خالی پڑا تھا۔ انہوں نے حلف نامے میں کہا ہے کہ عدالت کو دی جانے والی تمام معلومات درست اور سچ ہیں۔
واضح رہے کہ عدالت کے ذریعہ نوبہار سبزی منڈی کیس میں فیصلے کے بعد ، کارپوریشن کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے دوبارہ سماعت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ زونل آفیسر کا عہدہ خالی کیا جائے۔ لیکن دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ اودھ نارائن مکوریا اس معاملے کے بارے میں مستقل طور پر لکھتے رہے ہیں۔
3 ستمبر 2019 کو ، انہوں نے نوبہار سبزی منڈی کی دکان نمبر 13 / 2B پر کرایہ اپنے دستخط اور عہدہ کے ساتھ جمع کروانے کے لئے خط لکھا ہے۔
28 مئی 2019 کو ، اس نے اپنے عہدہ اور دستخط کے ساتھ محکماتی آرڈر بھی جاری کیا ہے۔
مکوریہ نے 28 مئی 2019 کو ہنومان گنج پولیس اسٹیشن میں نو بہار سبزی منڈی کے معاملے میں شکایت بھی درج کروائی ہے۔
باکس
عہدہ خالی رہنے کاحوالہ بھی متضاد ہے
گزشتہ کئی سالوں سے تہہ بازاری وصول کررہے کارپوریشن اپنے ہاتھوں سے ماہانہ لاکھوں روپے کما ئی ہاتھ سے نکلتے دیکھ رہی ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ہرقیمت پرجھوٹ کاسہارالیکر اس زمین پراپناقبضہ برقرار رکھناچاہتی ہے۔جس کے لئے وہ طاقت کابھی استعمال کررہی ہے اورہرطرح کے حربے اپنارہی ہے۔ایسے میں اس نے سرکاری ضابطوں کونظراندازکرنابھی قبول کرلیا ہے۔کارپوریشن کاکہنا ہے طویل عرصے تک زونل آفیسرکاعہدہ خالی رہنے کی وجہ سے عدالت میں اپناجواب پیش نہیں کرپائی۔جبکہ ضابطے کے مطابق محکمہ میںکسی افسریاملازمین کے نہ ہونے پراس کاکام انچارج کے ذریعہ کئے جانے کاپروویزن ہے۔ ادھراس بات کوبھی نظرانداز کیاجارہاہے کہ عدالتی معاملوں میں افسران کی غیرموجودگی میں بھی اس کاکام متعلقہ وکیل کوکرناچاہئے تھا۔وہیں ایک شخص کاکہنا ہے کہ وقف ریکارڈ میں درج قبرستان پرجبراً قبضہ کرنے کی نیت سے میونسپل کارپوریشن مسلسل جھوٹ کاسہارا لے رہی ہے۔عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اس نے پھر جھوٹے حلف نامہ بنواکر دوبارہ سماعت کی اپیل کی ہے۔جوپوری طرح سے غیرقانونی اورمعاملے کولٹکاکررکھنے کی کوشش ہے۔