برطانیہ اور چین نے دی خوشخبری، کورونا ویکسین ٹرائل کا دوسرا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل

پوری دنیا میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے پھیلاؤ کے درمیان برطانیہ اور چین سے اچھی خبر سامنے آ رہی ہے۔ ان دونوں ممالک کے سائنسداں دعویٰ کر رہے ہیں کہ کورونا ویکسین کے ہیومن ٹرائل کا دو مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئے ہیں۔ اس خبر نے لوگوں کی امیدیں بڑھا دی ہیں اور انتظار بس اس بات کا ہے کہ جلد از جلد سبھی مراحل کامیابی کے ساتھ پار کرتے ہوئے ویکسین بازار میں آ جائے۔

انسانی تاریخ کے سب سے بڑے بحران میں سے ایک کورونا انفیکشن نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے۔ ایسے ماحول میں لندن کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور چین کی کینسینو بایولوجکس نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا ویکسین کا دوسرا مرحلہ انھوں نے کامیابی کے ساتھ پار کر لیا ہے اور بہت جلد ویکسین بازار میں دستیاب ہوگی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے جینر انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ایڈرین ہِل نے کہا کہ “دوسرے مرحلہ میں ہزار سے زیادہ لوگوں پر ٹیسٹ کے بعد ہمیں لگتا ہے کہ نتائج محفوظ اور قابل اعتماد رہے ہیں۔ سبھی مریضوں کی قوت مدافعت میں بہتری دیکھی گئی ہے۔” وہ مزید کہتے ہیں کہ “سب ٹھیک رہا تو آکسفورڈ یونیورسٹی ستمبر تک ویکسین کے 10 لاکھ ڈوز تیار کر سکتی ہے۔ اگر ہم دو بلین خوراک تیار کر لیتے ہیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ویکسین بنا رہی دوسری کمپنیاں بھی جڑیں تاکہ بوجھ ہلکا ہو سکے۔”

ایڈرین نے ویکسین کے ہیومن ٹرائل کے تعلق سے تفصیل ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکہ کے اثرات کا جائزہ کرنے والے بڑے ٹیسٹس میں برطانیہ کے تقریباً 10 ہزار لوگوں کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ و برازیل کے امیدوار بھی شامل ہیں۔ یہ ٹیسٹ ابھی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ امریکہ میں جلد ہی ایک بڑا ٹیسٹ شروع ہونے والا ہے جس میں تقریباً 30 ہزار لوگوں کو شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

دوسری طرف چین کی کینسینو بایولوجکس نے بھی ویکسین کے تعلق سے خوش آئند دعوے کیے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ذریعہ تیار ویکسین کے مقابلے کینسینو بایولوجکس کی ویکسین میں تھوڑا فرق ہے۔ دراصل آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین ‘اے زیڈ ڈی 1222’ فورس پروٹیکشن دیتی ہے۔ یعنی یہ اینٹی باڈی اور ٹی سیل دونوں بناتی ہے، جب کہ چین کی کینسینو بایولوجکس ٹی ویکسین ‘اے ڈی5-این سی او وی’ صرف اینٹی باڈی بناتی ہے۔ دونوں ویکسین کو دوسرے مرحلہ کے ٹرائل میں محفوظ مانا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین میں معمولی سے سائیڈ افیکٹ ضرور نظر آئے ہیں لیکن چین کی ویکسین میں کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہے۔