جسٹس بھانومتی نے بیان کیا پیچیدہ عدالتی عمل کا ذاتی تجربہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی جج کے طور پر اپنے آخری کام کے دن جج بھانومتی کا وہ درد باہر آگیا جب بچپن کے دنوں میں ان کے کنبہ کو برداشت کرنا پڑا تھا۔ جسٹس بھانومتی نے چھ دہائی پہلے کے اپنے بچپن کے دنوں کا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کنبہ بھی عدالتی نظام میں تاخیر سے انصاف ملنے اور پیچیدہ عدالتی عمل کا شکار ہوا تھا۔

جسٹس بھانومتی کا یہ درد کام کرنے کے آخری دن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دی گئی ورچول الوداعی تقریب کے دوران چھلکا۔ وہ 19 جولائی کو ریٹائر ہونے والی ہیں، لیکن سنیچر اور اتوار کو عدالت عظمی میں ہفتہ کے آخر میں چھٹی ہونے کی وجہ سے جمعہ ہی کو ان کے کام کرنے کا آخری دن تھا۔ جج بھانومتی نے بتایا کہ میں نے اپنے والد کوا یک بس حادثہ میں کھو دیا، جب میں دو برس کی تھی۔ ان دنو ں ہمیں والد کی موت پر معاوضہ کے لئے مقدمہ دائر کرنا پڑا۔

جج بھانومتی نے کہا کہ میری والدہ نے دعوی دائر کیا اور عدالت نے فیصلہ سنایا، لیکن ہمیں معاوضہ کی رقم نہیں مل سکی۔ عدالت کے کافی پیچیدہ عمل تھے۔ خود میری بیوہ ماں اور میری دو بہنیں، ہم عدالت میں سماعت میں تاخیر اور پیچیدہ عمل میں مشکلات کے شکار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کی سخت محنت سے ان کی تینوں بہنوں نے تعلیم حاصل کی اور انہوں نے عدالت عظمی کے جج کی کرسی پر بیٹھ کر لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کا مقام حاصل کیا۔

خیال رہے کہ محترمہ بھانومتی عدالت عظمی کی تاریخ میں ایسی واحد جج ہیں جو ذیلی عدالت میں جج کی کرسی سے ترقی کرتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی کرسی پر پہنچیں۔ انہوں نے جمعہ کو عدالت کی روایت کے مطابق چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کے ساتھ بنچ شیئر کی اور کچھ معاملات کی سماعت کی۔