بہار کورونا وائرس کا عالمی ہاٹس پاٹ بننے کے لئے تیار: تیجسوی

پٹنہ: بہار کی اہم اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے نتیش حکومت پر ریاست میں کورونا متاثرین کے اعداد و شمار چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے پھیل رہے انفکشن سے اس بات کا مضبوط امکان ہے کہ بہار کووڈ-19 کا قومی ہی نہیں بلکہ عالمی ہاٹ اسپاٹ بننے کی جانب گامزن ہے۔

اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے ہفتہ کو مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ہندی اور انگریزی میں باری باری پانچ ٹوئٹ کیے، جس میں انہوں نے کہا ،’’بہار میں ایک روز میں ریکارڈ 2226 نئے پازیٹو معاملے ملے اور انفکشن کی شرح 21.7 فیصد پر پہنچ گئی۔ جو ملک کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔ یہ اخبار کی سرخی نہ بنے اس کے لئے کورونا انفکشن کے حقیقی اعداوشمار چھپائے جا رہے ہیں۔ یومیہ نصٖف اعدادوشمار شائع کیے جا رہے ہیں-

تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار میں جس حساب سے معاملے بڑھ رہے ہیں۔ اگر یومیہ 30-35 ہزار سیمپل کی جانچ ہو تو روز چار سے پانچ ہزار نئے پازیٹو معاملے ملیں گے اور انفکشن کے معاملے میں بہار ملک میں سر فہرست ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ بہار کورونا کا قومی ہاٹ اسپاٹ ہی نہیں بلکہ گلوبل ہاٹ اسپاٹ بننے کی جانب گامزن ہے، کتنا چھپاؤگے۔‘‘

اپوزیشن لیڈر نے ایک دیگر ٹوئٹ میں کہا کہ بہار میں جانچ سب سے کم لیکن انفکشن کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بہار کے برابر ریاستیں 30-40 ہزار سیمپل کی جانچ روزانہ کر رہی ہیں۔ وہیں بہار میں بمشکل گزشتہ تین روز سے 10 ہزار سیمپل کی جانچ ہوپائی ہے۔اس طرح دیکھا جائے تو پچھلے تین چار ماہ میں بہار میں یومیہ اوسطاً 4159 نمونے کی جانچ ہوپائی ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتہ میں کم سیمپل کی جانچ کرنے کے باوجود روزانہ ایک ہزار سے زائد نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر 11 جولائی سے 17 جولائی تک کے اعدادوشمار دیکھے جائیں تو ریاست میں انفکشن کی شرح 13 فیصد ہے، جو ملک کی اعلیٰ ترین سطح ہے اور اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ انفکشن کے پھیلاؤ کے تناسب سے جانچ نہیں ہوپا رہی ہے۔

آر جے ڈی لیڈر نے وزیراعلیٰ نتیش کمار پر حملہ بولا اور کہا کہ بہار کے 12.6 کروڑ عوام کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا لوگوں کی زندگی سے زیادہ اہم آپ کی ساکھ ہے۔اگر اسی طرح کم سیمپل کی جانچ ہوتی رہی تو ریاست میں لاکھوں لوگوں کی موت ہوگی۔