بھوپال میں کورونا کے 48کیسیز آئے سامنے


ہاٹ اسپاٹ شاہجہاں آباد اور بدھوارہ مےں 3-3متاثرہ افراد ملے
بھوپال:9 جولائی (نیانظریہ بیورو) جمعرات کو دارالحکومت بھوپال میں کورونا انفیکشن کے 48 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دارالحکومت میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 3353 ہوگئی ہے۔ تاہم ، اب تک 2541 مریضوں نے کورونا انفیکشن پر قابو پالیا ہے۔ اب تک 115 مریض کورونا انفیکشن سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہاں ، مدھیہ پردیش حکومت نے اتوار کے روزٹوٹل لاک ڈاو¿ن کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل بدھ کے روز 44 کورونا متاثرہ ملے تھے۔ اس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 3305 ہوگئی۔ بھوپال ضلع کے اسپتال اور کورنٹائن سےنٹر میں 500 سے زیادہ کورونا سے متاثرہ افراد زیر علاج ہیں۔ دارالحکومت میں وی آئی پی سمجھے جانے والے چار املی کے علاقوں میں ایک خاتون بھی کورونا متاثرہ پائی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مولانا نیشنل انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (مےنٹ) کے کورنٹائن سنٹر میں چھ مشتبہ افراد میںکورونا پایا گیا ہے۔بھوپال میں ڈاکٹروں کی ٹیم کِل کورونا مہم کے تحت نمونے لینے اور اسکریننگ کر رہی ہے۔ یہ تحقیقات ہر روز پی پی ای کٹ پہن کر کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیم کی ایک رکن سورابی رائے کا کہنا ہے کہ ہمیں ہر دن 8 گھنٹے پی پی ای کٹ پہننا پڑتی ہے اور یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ لیکن سوال لوگوں کی حفاظت کا ہے ، لہذا ہم اسے برداشت کرتے ہیں۔
ان علاقوں سے کورونا پازےٹےو پائے گئے :بےرا گڑھ میں 3 ، شاہجہاں آباد میں 3 اور جین مندر میں 3 افراد کی رپورٹ کورونا مثبت آئی ہے۔ ودیا نگر سے پانچ کےس سامنے آئے ہیں ، ایک ایک نہرو نگر ، رچنا نگر ،کٹارا میں بھی ایک اور اروند وہار ، باغ مغلےہ سے دو ۔ دو متاثر ملے ہیں۔ کھانو گاو¿ں کا ایک شخص کورونا متاثر پاےا ہے۔ ہاٹ اسپاٹ بدھوارہ سے تےن کورونا متاثرےن ملے ہےں۔کروند علاقہ سے بھی اےک کورونا پازےٹےو ملا ہے۔
انفیکشن کی روک تھام کے لئے اب تک 9.50 لاکھ افراد کا سروے:کورونا انفیکشن کی روک تھام کے لئے دارالحکومت میں 9.5 لاکھ افراد کا سروے کیا گیا ہے۔ اس دوران ، لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ صحت اور ضلع انتظامیہ کو کورونا سے متعلق کسی بھی علامات سے آگاہ کریں۔ بخار کی قریب ترین کلینک میں جاکر جانچ کروائیں اور اسکریننگ کروائیں۔ اگر اسکریننگ کے دوران ڈاکٹر کو نمونے لینے کی ضرورت ہو تو ، نمونے بھی دےں۔کوروان کی روک تھام کے لےئے کلکٹر اویناش لاونیا نے بدھ کے روز ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو علامات کے انکشاف ہونے کے بعد بھی محکمہ صحت کو معلومات نہیں دیتے ہیں۔ پریشانی بڑھ جانے کے بعد وہ اسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک ہفتے میں متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ معاشرتی دوری پر عمل نہےں کےا جارہا ہے۔