جھوٹ بولنے کے بجائے شیوراج بتائیں کہ کسانوں کی اگلی کشت کب دی جائے گی:کمل ناتھ

قرض معافی پر سیاست:

بھوپال:9 جولائی (نیانظریہ بیورو)
ریاست میں ہونے والے 24 سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں قرض معافی ایک اہم مدعہ بنتا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان مسلسل حملے کر رہے ہیں کہ کمل ناتھ حکومت نے قرض معافی نہیں کی ہے، انہوں نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے کہاکہ قرض معافی پر جھوٹ بولنے کے بجائے شیو راج سنگھ کو یہ بتانا چاہئے کہ باقی کسانوں کے قرض معافی کب شروع ہوگی۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جو 50 ہزارروپے کے قرض معافی کا وعدہ کرکے اپنی حکومت میں مکرگئے تھے۔ انہیں قرض معافی پر بات کرنے کا حق نہیں ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں،قرض معافی پرجھوٹ پروسنے سے قبل یہ بتائیں کہ کسانوں کے قرض معافی کے تیسرے مرحلے جس کی شروعات ہونے والی تھی،وہ کب شروع کریںگے۔اور دوسرے مرحلے کی قرض معافی کی رقم کب تک کھاتوں میں ڈالیںگے۔ کمل ناتھ نے کہا ہے کہ شیوراج سنگھ کے قرض معافی پر سوالوں کے جواب میں کئی فورم سے باربار دے چکا ہوں۔ کانگریس نے کبھی کسانوں کو دھوکہ نہیں دیا،بلکہ 2008میں بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کے0 5ہزار روپے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیاتھا،لیکن بعد میں حکومت بننے کے بعد مکرگئی۔وہیں شیوراج پر طنز کستے ہوئے کمل ناتھ نے کہا کہ جب تک دن بھر میں 100جھوٹ نہ بول لیں ،انہیں نیند نہیں آتی ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور 5سال کے لئے بنایا تھا۔ ہم اپنے تمام وعدوں کو پورا کرنے کےلئے پرعزم تھے۔حلف برداری کے 2 گھنٹوںمیں ہی کسانوں کے قرض معافی کی فائل پر دستخط کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے دوران ریاستی حکومت نے 20 لاکھ 23 ہزار کسانوں کے قرض معاف کردیئے تھے ، جن کی فہرست شیو راج سنگھ کو بھیجی گئی تھی۔سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے کہا کہ ہماری حکومت میں دوسرے مرحلے کے 50 ہزار سے 1 لاکھ تک کے کرنٹ اکاو¿نٹ کی قرض معافی کی منظوری جاری کردی گئی۔ اس میں 7 لاکھ کسانوں کے قرض معافی کا عمل مکمل ہوا اور تقریبا 1 لاکھ 87 ہزار کسانوں کے کھاتوں میں رقم کی منتقلی کوبھی منظوری دیدی گئی۔ باقی کسانوں کے قرض معافی کا عمل جاری تھا ، لیکن خریدوفروخت کر غیر جمہوری طریقے سے غداروں کے ساتھ مل کر کانگریس حکومت کو گرادیا گیا اور اس کے بعد کسانوں کے قرض معاف کرنے کا عمل روک دیا گیا۔