کسان قرض معافی کو لے کر شیوراج نے کیا کمل ناتھ پر حملہ


بھوپال:8جولائی (نیانظریہ بیورو)
وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے ایک مرتبہ پھر کمل ناتھ کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے تین سوالات پوچھے ہیں۔ شیوراج نے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ سے کسان قرض معافی سے متعلق 3 سوالات پوچھے۔ وزیراعلی ٰنے پوچھا کہ کمل ناتھ نے کسانوںکو قرض معافی کے نام پر دھوکہ کیوں دیا؟دراصل کانگریس نے انتخابی منشور میںکسانوں کے 2 لاکھ تک کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا ، جس میں کسانوں کا کوآپریٹیو بینکوں اور قومی بینکوں نے سبھی طرح کے قرض کو معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کا کیا ہوا؟ اگر حکومت نے کوآپریٹیو اور قومی بینکوں کے قرض کو معاف کرنے کا وعدہ کیاتھا تو حکومت بننے کے بعد صرف قلیل مدتی فصل قرضوں کو معاف کرنے کا منصوبہ کیوں بنایا؟ کیا کانگریس نے کوئی تاریخ طے کی تھی ،جس تاریخ تک کا قرض معاف کیا جانا تھا۔ اور اگر حکومت نے 31 مارچ 2018 تک کا وقت مقرر کیا تھا تو اپریل اور دسمبر2018 کے درمیان قرض لینے والے کسانوں کا قرض کیوں معاف نہیں کیا گیا؟کانگریس نے اسمبلی انتخابات سے قبل اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کے قرض معافی کا اعلان کیا تھا اور قرض معافی کے مدعہ پر ہی کانگریس کوریاست میں ووٹ ملا تھا۔حالانکہ کسان قرض معافی کو لے کر بعد میں کئی طرح کی الجھنیں کمل ناتھ حکومت کے سامنے تھیں اور کسانوں کی قرض معافی کانگریس حکومت کی گلے کی ہڈی بنی رہیں۔اسی قرض معافی کو لے کر اپوزیشن نے ہمیشہ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔آنے والے اسمبلی ضمنی انتخابات سے قبل ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اسی مدعہ کو لے کر کمل ناتھ پر حملہ کررہے ہیں۔