ریاستی حکومت میں قلمدان تقسیم بنا پیچیدہ مسئلہ

ریاستی حکومت میں قلمدان تقسیم بنا پیچیدہ مسئلہ
بھوپال:8جولائی (نیانظریہ بیورو)
کابینہ میں توسیع کے بعد محکمات کی تقسیم میں تاخیر پر حکومت اپوزیشن کے نشانے پر ہے۔ سابق وزیر پی سی شرما نے کہا کہ ہندوستان میں پہلی مرتبہ ایم ایل اے نہ ہونے کے باوجود 14 لوگوں کو وزیر بنایا گیا ہے ، اس کے ساتھ ہی گذشتہ 6 دن سے محکمات تقسیم کرنے کی جدوجہد جاری ہے۔ بی جے پی کے فیصلوں پر باربار مرکزی قیادت کو مداخلت کرنا پڑرہی ہے۔ محکمات کو لیکر کوئی کلیئرنس نہیںمل رہا ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان اعلیٰ کمان کی ہدایات کا انتظار کر رہے ہیں۔دراصل پی سی شرما نے شیوراج حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی تین خیموں میں بٹی ہوئی ہے، مہاراج ، شیوراج اور ناراض ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پہلی بار وزیر اعلی کی باڈی لینگویج اتنی کمزور اورمجبور دکھائی دے رہی ہے۔وہیں انہوںنے بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے سودے بازی کی حکومت بنائی ہے۔کانگریس حکومت کو عوام نے منتخب کیا تھا،جس کو بی جے پی نے خریدوفروخت کرکے حکومت بنا کر عوام کو دھوکہ دیاہے۔ شرما نے الزام لگاتے ہوئے مزید کہا کہ بی جے پی کووڈ19- پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ کمل ناتھ حکومت میں15 مہینے بمقابلہ 15 سال کاہوا تھا۔عوام کانگریس کو ہی ووٹ دیگی۔ ضمنی انتخابات میں کانگریس تمام سیٹیوںپر کامیابی حاصل کرے گی۔ بدناور کی ریلی سے اندازہ لگالیجئے کہ کس کی ریلی میں کتنی تعداد موجود ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کمل ناتھ نے بدناور سے انتخابی مہم شروع کی ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ منگل کو انتخابی مہم کی شروعات کے لئے بدناور پہنچے اسی دوران انہوں نے بی جے پی اور شیوراج پر طنز کساتھا۔کمل ناتھ نے شیو راج سنگھ کو سودے باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو سودے بازی کی سیاست کی ہے وہ بہت مہنگی پڑیگی ۔ جبکہ سندھیا پر طنز کستے ہوئے کہا کہ جنہوں نے ریاست کی بھلائی سے سودا کیا ہے ،ان کو یہ سیاست مہنگی پڑے گی ۔ ریاست کی 24سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ، جس کے لئے سیاسی تیاریاں شروع ہوچکی ہےں۔ جہاں بی جے پی نے ورچوئل ریلیاںکرنا شروع کردی ہے وہیں کانگریس نے بھی بدناور سے انتخابی مہم شروع کردی ہے۔ انتخابات سے قبل کانگریس میں غوروخوض کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 22 اسمبلی حلقوں میں اسے نئے طریقے سے پارٹی کھڑی کرنی ہے۔غورطلب ہے کہ یہ وہی 22 اسمبلی حلقے ہیں۔جن کے ایم ایل ایز استعفیٰ دینے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں اور ریاست میں کمل ناتھ حکومت کے بعد بی جے پی حکومت بن گئی ۔ 24 اسمبلی سیٹیوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں سے22 سیٹیں ایم ایل ایز کے استعفیٰ دینے کی وجہ سے خالی ہوئی ہیں ، جبکہ 2سیٹیںایم ایل ایز کی انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی ہیں۔