شیوراج کابینہ میں 15فیصد سے زائد وزرائ،کانگری جائے گی عدالت


بھوپال:3جولائی (نیانظریہ بیورو)
100 دن کے طویل انتظار کے بعد شیوراج کابینہ میں توسیع ہوگئی ہے ، لیکن یہ کابینہ توسیع قانونی داﺅ پیچ میں میں پھنستی نظر آرہی ہے۔ راجیہ سبھا ممبروویک تنکھا نے کابینہ میں توسیع کو غیر قانونی بتایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شیوراج سنگھ نے یہ دوسری غلطی کی ہے کہ اسمبلی کی 206 ایم ایل ایز کی تعداد میں15 فیصد سے زیادہ کو وزیر بنادیئے ہےں۔ جس کو لے کر کانگریس عدالت جائے گی۔وویک تنکھانے کہا کہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ کے ذریعہ تقریبا 1 ماہ تک بغیر کابینہ کے حکومت چلانے کی شکایت صدر جمہوریہ سے کی تھی۔ جس کے بعد 5 ممبروں پر مشتمل کابینہ تشکیل دی گئی۔ اب انہوں نے مدھیہ پردیش اسمبلی کی موثر تعداد میں 15 فیصد سے زائد وزرا بنائے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔دراصل آئینی نظام کے تحت کسی بھی ریاست میں ا سمبلی کی کل موثرسیٹوں میں سے 15 فیصد کو وزیر بنایا جاسکتا ہے۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کی موجودہ موثر تعداد 206 ہے ، جس کے مطابق 30 وزراءبنائے جاسکتے تھے ، لیکن جمعرات کو ہونے والی کابینہ توسیع میں 28 رہنماو¿ں نے وزیر عہدے کاحلف لیا۔ اس سے قبل5 وزراءبنائے جا چکے ہیں۔ اس کے مطابق وزراءکی تعداد 33 ہوگئی ہے ، جو 206 کی تعداد سے3 فیصد زیادہ ہے۔تنکھا نے اس معاملے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بات کہی ہے۔ اے آئی سی سی کے قانونی سربراہ اور راجیہ سبھا ممبرتنکھانے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیو راج جی نے ایک بار پھر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔اس معاملے میںریاستی کانگریس کے ترجمان اجے سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش میں کابینہ توسیع میں آئینی قواعد و ضوابط کی پوری خلاف ورزی کی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 164 کی دفعہ 11 میں واضح طور پر یہ بات لکھی گئی ہے کہ اسمبلی کی 15 فیصد سے زیادہ تعداد میں کابینہ ممبر نہیں ہوسکتے ہےں ۔ ریاست میں 33 رہنماو¿ں کووزیر عہدے کا حلف دلا کر آئینی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس معاملے میں ہم اپیل کرتے ہیں کہ صدرجمہوریہ اس معاملے سنجیدگی سے لیتے ہوئے کارروائی کریں۔ساتھ ہی کانگریس پارٹی عدالت میں بھی جائے گی۔