کابینہ توسیع میں آئینی حدود کو کیا گیا نظرانداز:سجن سنگھ ورما


بھوپال:2جولائی (نیانظریہ بیورو)
مدھیہ پردیش میں لمبی غور وخوض کے بعد آخر شیوراج حکومت کی کابینہ توسیع ہوگئی ہے۔شیوراج کی ٹیم میں 28نئے ممبران نے وزیرعہدے کا حلف لیا۔ 20نے کابینہ اور 8وزیرمملکت عہدے کا حلف لیا ۔ اب پہلے کے 5وزراءکو ملاکر کابینہ میں کل33وزیر ہوگئے ہیں۔ آخری وقت تک فہرست کو لے کر میٹنگیں ہوتی رہی۔ اس دوران کابینہ توسیع میں بی جے پی سے بڑی غلطی ہوئی ہے۔ کانگریس لیڈر اور سابق وزیر سجن سنگھ ورما نے وزیراعلیٰ شیوراج اور گورنر پر 2بڑی آئینی غلطی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پہلی غلطی پروٹیم اسپیکر کو وزیر عہدہ کا حلف دلادیا اور دوسری غلطی آئین میں دی گئی تعداد سے زائد وزیر بنائے گئے۔ سابق وزیر سجن سنگھ ورما نے کہا کہ آئین کے دفعات کے مطابق جتنے ایم ایل اےز ہیں ۔ اس کے حساب سے 15فیصد لوگوں کو ہی وزیربنایا جاسکتا ہے۔ لیکن شیوراج حکومت میں عہدہ کی لالچ میں 3مزید لوگوں کو وزیر بنایا ہے۔ انہوں نے شیوراج سنگھ چوہان پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ آخر جو شخص 15سال تک وزیراعلیٰ رہا ہو، وہ کیسے ایسے غلطی کرسکتا ہے،گورنر اس بات کی گواہ ہیں۔
پروٹیم اسپیکر دیوڑا کو وزیر بنائے جانے سے عہدہ خالی:اس کے علاوہ انہوں نے پروٹیم اسپیکر جگدیش دیوڑا کو وزیر بنائے جانے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دیوڑا کو بغیر استعفیٰ دلائے وزیر بنادیا گیا جبکہ آئین کے مطابق صدر رول عمل پر آنے پر بھی پروٹیم اسپیکر کا عہدہ خالی نہیں رہتا ہے۔ سجن سنگھ ورمانے مطالبہ کیا ہے کہ شیوراج غلطی قبول کریں نہیں تو ہم عدالت تک اس معاملے کو لے کر جائیںگے۔