کابینہ توسیع میںاپنے حامیوں کو جگہ نہ ملنے سے اوما بھارتی ہوئیںناراض


بھوپال:2جولائی (نیانظریہ بیورو)
شیوراج کابینہ توسیع ہوتے ہی ناراضگیوں کا دور شروع ہوگیا ہے۔ سابق وزراءکے بعد ریاست کی سابق وزیراعلیٰ اور بی جے پی کی فائر برانڈ لیڈر اوما بھارتی نے شیوراج کابینہ توسیع کو لے کرعدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ سندھیا حامیوں کو زیادہ اہمیت ملنے سے اوما ناراض ہیں۔ ذرائع کے مطابق اوما بھارتی نے پارٹی قیادت سے اپنی نظریاتی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اوما کا کہنا ہے کہ اس کابینہ توسیع میں ذات کا توازن بگڑگیا ہے۔ اس کابینہ توسیع سے ذاتی اور علاقائی مساوات بگڑا ہے۔ میرے حامیوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کو توجہ نہیں دی گئی ہے، جو مجھ سے جڑے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اوما نے خط لکھ کر فہرست میں ترمیم کرنے کو بھی کہا ہے۔ اوما کاکہنا ہے کہ انہیں جیوتی رادتیہ سندھیا کے حامیوں کے ساتھ بی جے پی میں آنے اور کانگریس کی حکومت گرانے کی دلی خوشی ہے، لیکن کابینہ توسیع میں ان کی رائے کو بالکل نظرانداز کرنا ان کی بے عزتی ہے جن سے وہ جڑی ہوئی ہیں۔ اس لئے وزراءکی فہرست میں ترمیم کی جانا چاہئے۔ میں نے پارٹی کے سینئر لیڈران سے گفتگو کی ہے اس کے مطابق فہرست میں ترمیم کیجئے۔اوما کے اس بیان کے بعد سیاسی گلیاروں میں کھلبلی شروع ہوگئی ہے۔کیوںکہ بی جے پی ابھی تک انہیں ہی نہیں منا پائی ہے جو کابینہ میں جگہ نہیں ملنے سے ناراض ہیں،ایسے میں اوما کے بیان نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں جمعرات کو شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت والی بی جے پی حکومت کی کابینہ میں 28لیڈران نے حلف لیا۔ کابینہ توسیع میں 20کابینہ اور 8 وزیرمملکت بنائے گئے ہیں۔ کابینہ میں بی جے پی کے 12،سندھیا خیمے کے 5اور کانگریس چھوڑ کر آئے 3لیڈران کو وزیر عہدے کا حلف دلایا گیا۔ وزراءمیں جیوتی رادتیہ سندھیا کے حامیوں کا پلڑا بھاری رہا۔ ان میں سے نئے وزراءمیں 12سندھیا حامی بھی شامل ہیں، جن کے مارچ میں کانگریس سے استعفیٰ کے بعد ریاست کی کمل ناتھ حکومت گرگئی تھی۔ 28وزراءکے حلف کے ساتھ ہی شیوراج کابینہ میں ممبران کی تعداد33ہوگئی ہے۔ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے 22سابق ایم ایل ایز میں سے 14کو وزیر بنایا گیا ہے۔ وہیں بی جے پی کے 101ایم ایل ایز میں سے 19کو حلف دلائی گئی ہے۔