کابینہ توسیع: مرکز کا فارمولہ ریاست میں عمل میں آیا تو بی جے پی کی حالت بھی ہوجائے گی کانگریس جیسی:گوپال بھارگو


بھوپال:30جون (نیانظریہ بیورو)
اتوار کو ناموں کی فہرست لے کر ہائی کمان سے ملنے پہنچے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان غوروخوض کے بعد منگل کو بھوپال لوٹ آئے ہیں، ایسے میں 30جون کو کابینہ توسیع نہ ہوکر جولائی کے پہلے ہفتہ میں ہونے کا امکان ہے۔ وہیں دوسری طرف گذشتہ حکومت میں وزیر رہے اور سینئر ایم ایل اےز کو نظرانداز کرکئی نئے بی جے پی ایم ایل اےز کو موقع دیئے جانے کا اشارہ مل رہا ہے۔ ان ہی قیاس آرائیوں اور خبروں کے بیچ سابق رہنما حزب مخالف اور آٹھ مرتبہ ایم ایل اے رہے گوپال بھارگو کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بیان دیکر جہاں سیاسی گلیاروں میں ہلچل پیدا کردی ہے،وہیں بی جے پی میں بھی افراتفری کا ماحول ہے۔ دراصل بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق رہنما حزب مخالف گوپال بھارگو نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے وزیر نہیں بنائے جانے کے اشارہ کے بعد گوپال بھارگو نے بی جے پی کی بھی کانگریس جیسی حالت ہونے کی بات کہی ہے۔ ایک پرائیویٹ چینل سے گفتگو کے دوران بھارگو نے کہا کہ بی جے پی بھی وہی غلطی کررہی ہے۔ جو کانگریس نے کی تھی۔ پارٹی کو سینئر لیڈران کا تعاون لینا چاہئے،مرکز کے فارمولے کو ریاست میں نافذ نہیں کرنا چاہئے۔ ا سے کہیں نہ کہیں بھارگو کا اندورنی درد کہا جارہا ہے، جو طویل انتظار کے بعد چھلکا ہے۔ وہیں پارٹی کے ذریعہ بھارگو کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے اسمبلی صدر بنائے جانے کی خبر ہے۔ حالانکہ آخری فیصلہ ہائی کمان لے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ شیوراج اپنے چہیتوں کو کابینہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہائی کمان نئے چہروں کو موقع دینے کے فیور میں ہیں۔ وہیں سندھیا حامیوں کے ساتھ بی جے پی کوئی سمجھوتہ نہیں کرناچاہتی ہے، کیونکہ حکومت بنانے میں سندھیا اور ان کے حامیوں نے اہم کردا ادا کیا ہے۔ لیکن وزیراعلیٰ چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ بعد میں لیا جائے۔ سندھیا حامیوں میں سے تمام سینئر لیڈران کو وزیر بنایا جاتا ہے تو بی جے پی کے پاس عہدہ کم بچیں گے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ ایک دو لوگوں کو روک کر انہیں ضمنی انتخابات کے بعد وزیر بنایا جائے۔