کابینہ توسیع: ریاست کو مل سکتے ہیں دو نائب وزیراعلیٰ


بھوپال:30جون (نیانظریہ بیورو)
مدھیہ پردیش میںہونے والی کابینہ توسیع کے انتظار میں مسلسل رکاوٹیں آرہی ہےں۔ وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے دہلی جانے پر پیرکو خبر آئی تھی کہ متعلقہ وزراءکے نام طے ہوگئے ہیں اور 30جون کو حلف برداری ہوسکتی ہے۔اس کے بعد شام کو سیاسی حالات اچانک بدل گئے۔ اچانک ریاست کے وزیرداخلہ نروتم مشرا بھی دہلی پہنچ گئے۔ وہیں مرکزی قیادت سے لمبی گفتگو کے بعد تیسرے دن شیوراج منگل کی صبح بھوپال لوٹ آئے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کئی سینئر ایم ایل ایز کی جگہ نئے چہروں کو موقع دینا چاہتی ہے۔ حالانکہ وزیراعلیٰ شیوراج اپنے پرانے ساتھیوں کو کابینہ میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔اس سے قبل کابینہ توسیع کی کئی مرتبہ قیاس آرائیاں چلتی رہی،لیکن کسی نہ کسی وجہ سے توسیع ٹلتی رہی۔ سندھیا حامیوں اور بی جے پی کے سینئر لیڈران کو لے کر معاملے الجھنے کی وجہ سے کابینہ توسیع میں تاخیر ہورہی ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ کابینہ توسیع میں وزیرداخلہ نروتم مشرا اور آبی وسائل وزیر تلسی سلاوٹ کو نائب وزیراعلیٰ بنایا جاسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق سندھیا حامیوں کے علاوہ نئے چہروں کو موقع دیئے جانے کی قواعد چل رہی ہے۔ اگر ایسا ہواتو اس بار کئی سینئر ایم ایل ایز کا وزیر بننا ناممکن ہوگا۔ ان میں گوپال بھارگو ، وجے شاہ،سریندر پٹوا،رام پال سنگھ،راجیندر شکلا،پریم سنگھ پٹیل،پارس جین،ناگیندر سنگھ،کرن سنگھ ورما،جگدیش دیوڑا،گوری شنکر بسین،اجے وشنوئی،بھوپیندر سنگھ کے نام شامل ہےں۔ یہ سبھی گذشتہ بی جے پی حکومتوں میں وزیر رہ چکے ہیں۔ اس درمیان سینئر لیڈر گوپال بھارگو نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی بھی وہی غلطی کررہی ہے جو کانگریس نے کی تھی۔ پارٹی کو سینئر لیڈران کا تعاون لیناچاہئے۔ غورطلب ہے کہ وزیراعلیٰ شیوراج دو دن دہلی میں وزیراعظم نریندر ومودی،وزیرداخلہ امت شاہ،جیوتی رادتیہ سندھیا سمیت کئی سینئر لیڈران سے گفتگو کی۔ اس دوران وزیرداخلہ نروتم مشرا بھی دہلی پہنچ گئے تھے۔ منگل کو بھوپال لوٹنے کے بعد وزیراعلیٰ وزارت پہنچے۔ مانا جارہا ہے کہ جلد ہی کابینہ توسیع ہوسکتی ہے۔ اور اس مرتبہ کابینہ میں نئے چہروں کو جگہ دی جاسکتی ہے۔ اسمبلی میں کارکنان کی تعداد کے حساب سے ریاست میں زیادہ سے زیادہ 35وزیر بن سکتے ہیں،جن میں وزیراعلیٰ بھی شامل ہیں۔ اس طرح وزیراعلیٰ زیادہ سے زیادہ 29مزید وزیر بناسکتے ہیں۔