کابینہ توسیع : وزیراعلیٰ اور ریاستی صدر کے بعد اب نروتم بھی پہنچے دہلی


بھوپال:29جون(نیانظریہ بیورو)
مدھیہ پردیش میں سیاسی گھماسان کے بیچ شیوراج کابینہ توسیع کا راستہ کھلتا نظرآرہا ہے۔ اسی کو لے کر بروز اتوار ریاست کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان دہلی پہنچے تھے۔ شیوراج سنگھ چوہان کے دہلی بلاوے کے بعد یہ بات طے ہوگئی تھی کہ جلدہی ریاست میں کابینہ توسیع کی جائے گی لیکن اسی درمیان کچھ معاملے الجھتے نظرآرہے ہیں۔ شیوراج کے دہلی جانے کے بعد ریاست کے وزیرداخلہ نروتم مشرا بھی اچانک دہلی پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل مشرا گوالیار میں تھے اور وہاں سے ان کے بھوپال لوٹنے کی تیاری تھی،لیکن اسی درمیان اچانک دہلی سے بلاوے کے بعد وہ سیدھے دہلی پہنچ گئے ہیں۔ دراصل شیوراج کے کابینہ توسیع میں وزراءکے نام پر آخری مہر لگنے سے قبل وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور راجیہ سبھا ممبر جیوتی رادتیہ سندھیا کے بیچ ملاقات ہوئی تھی۔ جس سے مانا جارہا تھا کہ سندھیا خیمے کے ایم ایل اےزکو کابینہ میں شامل کئے جانے والے کے ناموں کے بارے گفتگو کی گئی ہے۔ لیکن مانا جارہا ہے کہ وزیر کے نام اور محکمات کے فیصلے کو لے کر مشکلات سامنے آرہی ہےں۔وہیں کابینہ توسیع کے امکانات کو دیکھتے ہوئے ریاست کے بیشتر ذمہ داری ملنے کے بعد آنندی بین پٹیل کی بھی پیر کو بھوپال آنے کے امکان تھے۔ جسے اچانک رد کردیا گیا ۔ راج بھون کے ذریعہ اس بات کی معلومات دی گئی ہے کہ انچارج گورنر پیر کو بھوپال نہیں آرہی ہےں۔ غورطلب ہے کہ اتوار کو وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان ،ریاستی صدر وی ڈی شرما اور پارٹی انچارج سہاس بھگت کے ساتھ بی جے پی کے قومی صدر نڈا سے ملاقات کرچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر سے ملاقات ہوئی ہے۔ جیوتی رادتیہ سندھیا اور نریندر سنگھ تومر دونوں ہی گوالیار ،چمبل کے بڑے لیڈر ہیں۔ اب ایسے میں ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ 16سیٹ ہونے کی وجہ سے کابینہ توسیع میں وہاں کے وزیر عہدہ اور محکمات کے بٹوارے کا نفاذ خصوصی مدعہ بنا ہوا ہے۔ اسی بیچ اتوار کو وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے وزیرداخلہ امت شاہ سے بھی بات کی تھی جہاںکابینہ توسیع کے لئے دونوں لیڈران کے درمیان تقریباً 2گھنٹے گفتگو ہوئی تھی۔