علی گڑھ پوسٹ مارٹم ہاؤس میں اہل خانہ سے وصولا جا رہا ہے پیسہ: پرینکا


علی گڑھ: کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کی انچارج پرینکا گاندھی نے علی گڑھ میں واقع پوسٹ مارٹم ہاؤس کی بدحالی کے حوالہ سے یوگی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف ریاستی حکومت بھلے ہی سہولیات کی بہتری کے دعوے کر رہی ہو لیکن ان دعووں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’میڈیا رپورٹ کے مطابق علی گڑھ کے پوسٹ مارٹم ہاؤس میں بھاری بدانتظامی ہے۔ لاشیں باہر رکھی ہوئی ہیں۔ مہلوکین کے اہل خانہ کے مطابق ان سے برف کی سلی کے لئے پیسے کی اگاہی کی جا رہی ہے۔ کورونا کے دور میں حکومت کے دعووں کے باوجود نظام کی بدحالی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

پرینکا گاندھی نے ایک نیوز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم یوگی آدتیہ ناتھ پر نشانہ سادھا ہے۔ خبروں کے مطابق، کورونا کی جانچ رپورٹ لوگوں کو تین سے پانچ دن میں حاصل ہو رہی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں ہر دن پوسٹ مارٹم کے لئے 12 لاشیں اسپتال پہنچ رہی ہیں لیکن ان کی دیکھ بھال کا بھی انتظام نہیں ہے۔ لاشیں مسخ نہ ہونے کے لئے اہل خانہ سے ہی برف کی سلی منگائی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں حکومت نظام کی بہتری کا دعوی کیسے کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ علی گڑھ میں طبی بدانتظامی کا عالم یہ ہے کہ یہاں کے پوسٹ مارٹم ہاؤس کا ڈیپ فیرزر خراب ہو چکا ہے اور لاشیں مسخ ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ دینک بھاسکر کی خبر کے مطابق امیر نشاں کے رہنے والے شفیق الرحمن کی 5 روز قبل پر اسرار حالت میں موت ہو گئی تھی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔ کہا گیا کہ جب تک کورونا کی جانچ رپورٹ نہیں آ جاتی تب تک نہ تو لاش کا پوسٹ مارٹم ہوگا اور نہ ہی اسے اہل خانہ کو سونپا جائے گا۔ اب ہر دن برف کی سلی کے لئے شفیق الرحمن کے اہل خانہ کو 500 روپے دینے پڑ رہے ہیں۔ لاش سے بدبو بھی آنے لگی ہے۔ علی گڑھ ضلع میں شفیق الرحمن جیسے کئی مہلوکین ہیں جن کی لاشیں پوسٹ مارٹم ہاؤس میں رکھی گئی ہیں۔

دریں اثنا، کورونا سے متاثرہ ریاستوں میں اتر پردیش پانچویں مقام پر آ چکا ہے۔ یہاں اب تک کورونا کے 21549 کیسز کی تصدیق کی جا چکی ہے جن میں سے 6685 کیسز فعال ہیں جبکہ 14215 لوگوں کو اسپتال سے فارغ کیا جا چکا ہے۔ ریاست میں کورونا سے اب تک 649 افراد کی جان چلی گئی ہے۔