کراس ووٹنگ معاملہ: بی جے پی ہائی کمان نے ریاستی یونٹ سے مانگا جواب


بھوپال:21جون (نیانظریہ بیورو)
مدھیہ پردیش میں 19جون کو تین سیٹوں پر ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی میں ہوئے کراس ووٹنگ کو لے کر ہلچل ہے۔ بی جے پی کے مرکزی ہائی کمان نے ریاستییونٹ سے جواب طلب کیا ہے۔ راجیہ سبھا کے دوران بی جے پی کے 2ایم ایل ایز کے ووٹ خراب ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے پارٹی کا مرکزی قیادت ناراض ہے۔ سابق ممبر پارلیمنٹ آلوک شرما کا کہنا ہے کہ پارٹی معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ دراصل راجیہ سبھا سے قبل بی جے پی نے دودن اپنے ایم ایل ایز کو ٹریننگ دی تھی،جبکہ ایم ایل اےز کے ساتھ ساتھ دوسری پارٹی کے ایم ایل ایز سے بھی ووٹ لینے کی کوشش کی تھی۔جس میں بی جے پی اپنے ایم ایل ایز کی ناراضگی نہیں سمجھ پائی۔ گنا سے بی جے پی ایم ایل اے گوپال جاٹو سندھیا سے ناراض ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اپنا ووٹ کراس کرکے دگوجئے سنگھ کو دیدیا ۔ وہیں جگل کشور باگڑی کا ووٹ منسوخ ہوگیا ۔ جس کے بعد اب پارٹی صفائی دیتی نظرآرہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کانگریس ایم ایل ایز پر اپنی نظر جمائے بیٹھی بی جے پی کو اپنے ایم ایل ایز نے جھٹکا دیدیا ہے۔ ایسے میں گوالیار چمبل کی 16اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونا ہے۔ اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے پارٹی کے لئے ڈمیز کنٹرول بڑا چلینج ہے۔