کانگریس نے دلت پر راجہ کو ترجیح دی:وشواس سارنگ


بھوپال:20جون (نیانظریہ بیورو)
راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی -کانگریس میں بیان بازی کا دور شروع ہوگیا ہے۔ خاص طور پر راجہ -مہاراج کو لے کر ایک دوسرے پر تیکھے وار کئے جارہے ہیں۔ جہاں کانگریس راجہ کو مہارج پر بھاری بتارہی ہے وہیں بی جے پی راجہ کو دلت پر بھاری قرار دیتے ہوئے دلت مخالف ہونے کا الزام لگارہی ہے۔اب سابق وزیر پی سی شرما کے بیان پر بی جے پی کے سابق وزیر وشواس سارنگ نے پلٹوار کیا ہے۔ سارنگ کا کہنا ہے کہ راجہ -مہاراجہ پر نہیں ، بلکہ دلت پر بھاری پڑگئے۔ سارنگ نے کہا کہ بریا کے ووٹ بھی الگ سے راجہ کو ڈلوادیئے گئے۔ کانگریس ہمیشہ سے دلت مخالف ہے۔ پہلے نہرو جی نے امبیڈکر کو نظرانداز کیاتھا،امبیڈکر کو راجیہ سبھا ممبر نہیں بننے دیا تھا اور اب کانگریس اسی روایات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ بات کانگریس کے امیدوار کے انتخاب ان کی ترجیحات اور نتائج سے پوری طرح واضح ہوگئی ہے ۔ سارنگ نے مزید کہا کہ کانگریس کی حالت کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی ہوگئی ہے۔ کانگریس میں کوئی لیڈر رہنا نہیں چاہتا ۔کانگریس صرف شناخت بچانے کے لئے سیاست کررہی ہے۔ حالانکہ انتخابات سے قبل ہی بی جے پی نے بریا کو نظرانداز کرنے کو لے کر کانگریس کی گھیرا بندی کی تھی۔ بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس لیڈران کے ذریعہ باربار مطالبہ کیا جارہا تھا کہ راجیہ سبھا میں بریا کو پہلی ترجیح دی جائے ۔ اس کو لے کر سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے کانگریس لیڈران کو یقین دلایا تھا ،لیکن عین وقت پر کانگریس نے حکمت عملی بدلی اور راجہ کو 57ووٹ ڈلوا دئے۔وہیں انہوں نے بی ایس پی، ایس پی کے ایم ایل اےز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی اور ایس پی کے جو ایم ایل ایز جیت کر آئے ہیں وہ اپنی محنت پر جیتے ہیں ۔ لیکن کانگریس نے ان کی بے عزتی کی ہے۔ اسی سلسلے میں سارنگ نے ضمنی انتخابات کو لے کر دعویٰ کیا ہے کہ ہمارا ٹارگیٹ 24سیٹ جیتنا ہے سامنے کون ہوگا اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں رہے گا۔ بی جے پی کے جو ایم ایل ایز کامیاب ہونگے وہ اپنے حلقے میں ترقی کریںگے اور ہم 24میں سے 24سیٹوں پر کامیاب ہونگے۔