ضمنی انتخابات سے قبل: بی جے پی کے سینئر لیڈران کانگریس میں ہوئے شامل


بھوپال:20جون (نیانظریہ بیورو)
مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات سے قبل پارٹی بدلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں پارٹی جوڑ-توڑ کی حکمت عملی میں مصروف ہے۔ موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے لیڈران،کارکنان بھی ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ اب رائسین سے بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگاہے۔ سانچی اسمبلی حلقے سے بی جے پی کے سابق دیہی ڈویزن صدر اور سانچی ضلع کے رکن پریم ناراین مینا نے کانگریس کا دامن تھام لیا ہے۔ گذشتہ روز سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ کی موجودگی میں انہوں نے کانگریس کی رکنیت حاصل کی۔ دراصل سانچی اسمبلی حلقے میں ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ ایسے میں مینا کے کانگریس میں شامل ہونے کو بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ کیونکہ مینا اپنے علاقے میں مضبوط پکڑ والے بی جے پی لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور کھربئی علاقے میں 21پولنگ بوتھ پر ان کا اچھا خاصا دبدبہ ہے۔ سابق دیہی ڈویزن صدر پریم ناراین مینا کے علاوہ بمہوری کے بی جے پی حامی سرپنچ درشن پٹیل اور غیرت گنج کے جتیندر رائے بھی کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ اچانک ان لیڈران کے پارٹی چھوڑنے سے بوتھ سطح پر بی جے پی کی پکڑ کمزور ہوگی۔ کیونکہ ان لیڈران کی 169ووٹنگ مراکز اور 77دیہی پنچایتوں کے کارکنان سے رابطہ تھا اور وہ بھی جلد کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ کانگریس میں شامل ہونے کے بعد مینا نے کہا کہ میں بہت دنوں سے ناراض تھا کیونکہ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں جہاں بی جے پی آپسی رنجش میں گھری ہوئی تھی اس وقت بھی ہم نے پوری طاقت سے ایمانداری اور دل سے پارٹی کا کام کیا تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ ہمارے علاقے کے 21پولنگ بوتھ پر 1500سے زائد ووٹ ملے تھے جس سے بی جے پی امیدوار کو جیت حاصل ہوئی تھی۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں اب ہم جیسے لوگوں کی ایمانداری پر سوال اٹھنے لگے ہیں،باہری لوگوں کی پوچھ پرخ ہورہی ہے۔ جنہوں نے گذشتہ انتخابات میں بی جے پی کو ہرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی ۔اب ایسے ماحول میں بی جے پی میں بنے رہنا ممکن نہیں ہے۔