ضمنی انتخابات سے پہلے کانگریس-بی جے پی ایک دوسرے کے لوگوں کو توڑنے میں مصروف


بھوپال:16جون(نیانظریہ بیورو)
جب جب انتخابات آتے ہیں پارٹی بدلنے کا سلسلہ تیزی سے شروع ہوجاتا ہے۔ لیڈر-کارکنان موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پارٹیاں بدل لیتے ہیں۔ ایسے میں مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا اور اسمبلی ضمنی انتخابات سے قبل ریاست میں سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ جوڑ -توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ کبھی کانگریس ،بی جے پی کو ہراتی ہے تو کبھی بی جے پی کانگریس کو۔ حالانکہ بی جے پی اس کھیل میں کانگریس سے آگے نکلتی نظر آرہی ہے۔ اشوک نگر اور ساگر کے بعد اب بی جے پی نے دھار کے بدناور سے کانگریس کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ اس سے قبل سانویر،سانچی،سرخی سمیت کئی اسمبلی سیٹوں کے کانگریس کارکنان بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں۔ذرائع کے مطابق بھوپال واقع بی جے پی ریاستی دفتر میں بدناور سے کانگریس کے 300کارکنان بی جے پی کی رکنیت حاصل کرنے پہنچے۔ کانگریس کے سابق ایم ایل اے راجوردھن سنگھ دتتی گاﺅں حلقے کے ہیں۔ اس علاقے سے ایک ساتھ اتنے کارکنان کابی جے پی میں شامل ہونا کانگریس کے لئے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ راجوردھن کو بدناور سے ٹکٹ ملنا طے مانا جارہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کے ساتھ دھار پارلیمانی حلقے سے کانگریس امیدوار رہے دنیش گروال نے بھی کانگریس چھوڑ بی جے پی کی رکنیت حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے سندھیا کے بی جے پی میں جانے کے بعد کانگریس سے استعفیٰ دیدیاتھا۔ بتایا جارہا تھا کہ سندھیا کے جانے کے بعد سے یہ لیڈر بھی اعلیٰ کمان سے ناراض چل رہے تھے۔ حالانکہ اپنے استعفیٰ کے بعد انہوں نے کسی دیگر پارٹی میں جانے کو لے کر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا،لیکن اب بی جے پی میں شامل ہوکر سب کو چونکا دیا ہے۔ حال ہی میں اشوک نگر سے تقریباً 250سے زائد کانگریسی کارکنان نے کانگریس کے دو سابق ایم ایل اےز ججپال سنگھ ججی اور برجیندر یادو کی قیادت میں شیوراج سنگھ چوہان کی موجودگی میں بی جے پی کا دامن تھاما تھا۔ اس کے ساتھ ہی دو دن قبل ساگر کی سرخی اسمبلی حلقے کے سیکڑوں کانگریس کارکنان نے کوآپریٹیو وزیر گووندسنگھ راجپوت کی موجودگی میں بی جے پی کی رکنیت حاصل کی تھی۔ بی جے پی نے تقریباً1ہزار کانگریس کارکنان کے بی جے پی میں شامل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ غورطلب ہے کہ ریاست میں حکومت گرانے کے بعد سے ہی دونوں پارٹیوں کی طرف سے لیڈران -کارکنان کو توڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں کانگریس نے جہاں سانویر سے پریم چند گڈو اور ان کے بیٹے سمیت گوالیار سے بالیندو شکلا کو اپنی پارٹی میں شامل کیا تھا۔ آنے والے دنوں میں بڑی تعداد میں لیڈران -کارکنان کے پارٹی بدلنے کے امکانات ہےں۔